Imran Khan As A Friend. Imran Khan As Friend Of Azam Khan, Naeem Ul Haq.
_________ سوشل ______
نوابزادہ اعظم خان، نواب آف کالا باغ فیملی کے چشم و چراغ تھے۔ عمران خان کے کلاس فیلو اور جگری یار تھے۔ نوابزادہ اعظم خان اور عمران خان نے یہ دوستی کالج لائف کے بعد بھی خوب نبھائی۔
نوابزادہ صاحب عمران خان کو ہر سال اپنے خرچے پر شکار کھیلنے لے جاتے۔ چار عشرے قبل کا واقعہ ھے۔ نوابزادہ اعظم خان نے اپنے جگری یار عمران خان کو شکار پر بلایا۔ شکار کے دوران ہی نوابزادہ صاحب کو دل کا دورہ پڑا اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ عمران خان اپنے جگری دوست کی لاش جنگل میں ہی چھوڑ کر صحت افزا تفریح کیلئے کسی اور طرف نکل گئے۔ شکار جیسی سرگرمی چھوڑ کر کسی دوست کی لاش کے پاس بیٹھنا، ڈیڈ باڈی کو اسکے گھر تک پہنچانا یا بعدازاں جنازہ پڑھنے جیسے بور کام کیلئے خان صاحب کے پاس وقت نہیں تھا۔
مشہور پنجابی ٹی وی کمپیئر دلدار پرویز بھٹی، عمران خان کے لاڈلے دوستوں میں سر فہرست تھے۔ دلدار بھٹی فوت ھو گئے۔ عمران خان اس روز انکی جنازہ گاہ سے صرف تین سو گز کے فاصلے پر موجود تھے۔ دوست کی لاش کو کندھا دیا نہ نماز جنازہ پڑھنے کا تکلف کیا۔
نوے کی دہائی کے وسط میں عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ کرکٹ کے دور کے انکے کچھ پرستاروں کے علاوہ کوئی ان کا ساتھ دینے کو تیار نہ ھوا۔ سیاسی قد کاٹھ والی شخصیات تو درکنار، یونین کونسل کا کوئی چیئرمین یا ممبر لیول کا آدمی بھی انکی جماعت میں شامل ھونے کو تیار نہ ھوا۔ ایسی لاچارگی کے عالم میں عمران خان کے ایک پرانے دوست نعیم الحق نے عمران خان کا ہاتھ تھاما اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ نعیم الحق نے اپنا وقت اور عمر بھر کی جمع پونجھی اپنے دوست عمران خان کی جھولی میں ڈال دی۔
2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے الیکشن بورڈ نے کراچی کے ایک حلقے سے نعیم الحق کو پارٹی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ نعیم الحق نے یہ کہہ کر الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا کہ انکے پاس الیکشن لڑنے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ اپنی جمع پونجھی تحریک انصاف کی بنیادوں میں دفن کر چکے ہیں۔ نعیم الحق کا یہ جواب یقیناً انکے دوست عمران خان کے کانوں تک بھی پہنچا ھوگا۔ عمران خان اپنے اربوں کے سرمائے میں سے کروڑ، آدھا کروڑ نعیم الحق کو دے دیتے تو وہ غربت کی وجہ سے الیکشن سے باہر نہ ھوتے۔
دو سال پہلے اسی نعیم الحق کا انتقال ھوگیا۔ عمران خان انکا چہرہ دیکھنے اور نہ جنازہ پڑھنے گئے۔ بعد میں انھوں نے اپنے سیکریٹری سے نعیم الحق کے لواحقین کو فون کروا کر انھیں بنی گالہ طلب کروا لیا تاکہ وزیراعظم پاکستان ان سے تعزیت کر سکیں۔ لواحقین کو اسلام آباد طلب کرنے کی خبر جب پارٹی کی دیگر قیادت اور کارکنوں تک پہنچی تو انھوں نے دانتوں میں اپنی انگلیاں دبا دیں اور عمران خان کی اس حرکت پر احتجاج شروع کر دیا۔ لیکن لواحقین کو تعزیت بنی گالہ آ کر ہی وصول کرنی پڑی۔
کسی دور میں خان صاحب میاں نواز شریف کے مرید ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے بطور وزیراعلیٰ نواز شریف سے یہ درخواست کر کے ایک پلاٹ لیا کہ "سائل ایک بے گھر آدمی ھے"۔ عمران خان نے میاں نواز شریف سے شوکت خانم ہسپتال کیلئے نہ صرف اراضی منظور کروائی بلکہ ان سے چندے کی مد میں کثیر رقم بھی لی۔
جنرل مشرف کے اقتدار کے اوائل میں خان صاحب جنرل مشرف کے بڑے فرمانبردار مرید بن گئے تھے لیکن جب جنرل مشرف سے انھوں نے قومی اسمبلی کی 90 سے 100 سیٹیں مانگی تو جنرل صاحب کا ہاسا نکل گیا اور یہیں سے جنرل مشرف بھی بُرے ہو گئے۔ آج کل میاں نواز شریف اور جنرل مشرف کے متعلق عمران خان کے کیا عقائد ہیں کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔
پچھلے چند سال میں اگر عمران خان اپنے کسی دوست یا عزیز کے نماز جنازہ میں شریک ہوئے ہوں تو مجھے مطلع کر کے شکریہ کا موقع دیں۔ لیکن اپوزیشن کے لانگ مارچ اور عدم اعتماد کی شُرلی نے رشتوں سے کٹے عمران خان کو دو دن میں سوشل کر دیا۔ دو دنوں میں وہ دو مرتبہ جہانگیر ترین کی خیر خیریت دریافت کر چکے ہیں۔ انھیں جہانگیر ترین کی صحت کی فکر سونے نہیں دیتی۔ پرویز الٰہی اور MQM تو کسی گنتی میں آتے ہی نہیں یہاں تو PTI کے اپنے اراکین پارلیمینٹ کو شکوہ ھیکہ وہ تین سال سے عمران خان سے ایک ملاقات کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے ہیں لیکن دِلی ہنوز دور است !!
گذشتہ دو دنوں سے خان صاحب ایم۔کیو۔ایم اراکین سے ملنے کو بیتاب ہیں۔ وہ شخص جو ڈاکٹر قدیر سے نعیم الحق اور دلدار بھٹی سے نوابزادہ اعظم خان تک سانسیں نکلنے کے بعد تعلق نہ نبھا سکا وہ گذشتہ روز زندہ چوہدری شجاعت کی تیمارداری کیلئے انکے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ چوہدری شجاعت نے جب عمران خان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تو بیٹھتے ہوئے انھوں نے پاس موجود پرویز الٰہی کو سرگوشی کی کہ اگر میرے خلاف عدم اعتماد کا حصہ بنے تو میں آپکو پھر سے پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہنا شروع کر دوں گا۔
آج میری نظر جب چوہدری شجاعت کے سامنے ہاتھ باندھے عمران خان پر پڑی تو میرا جسم کانپنا شروع ہو گیا۔ مجھے خان صاحب کا 29 سال قبل دیا گیا وہ انٹرویو یاد آ گیا کہ "میں سیاست میں کبھی نہیں آوں گا، میں سیاست پر لعنت بھیجتا ہوں، مجھے عجیب سا لگتا ھیکہ میں سیاست میں آ کر دو، دو ٹکے کے لوگوں سے ووٹ کی بھیک مانگوں"
مجھے نہیں پتہ کہ سیاست میں دو، دو ٹکے کے لوگوں کی چاپلوسی کرنی پڑتی ھے یا نہیں لیکن اتنا معلوم ہو چکا ھیکہ سیاست عمران خان جیسے نان سوشل آدمی کو بھی 48 گھنٹوں کے اندر مکمل طور پر سوشل بنا سکتی ھے۔
📝سردار منیر ایڈووکیٹ📄
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.