Shia Minority By Hashir Bin Irshad.
کیا شیعہ ایک اقلیت ہیں؟
حاشر ابن ارشاد
چرن جیت سنگھ خاموش طبعیت کے آدمی تھے۔ زیادہ نہیں بولتے تھے۔ پر جو کچھ سکھ برادری پر پاکستان میں بیت رہا تھا اس کے ذکر پر ان کی آنکھوں کے گوشے نم سے ہو جاتے۔ کچھ دیر وہ انہی نم مگر چپ آنکھوں سے ہمیں دیکھتے پھر اپنی انگلی سے اپنی ہتھیلی پر ایک دکھائی نہ دینے والا زخم کریدنے میں لگ جاتے۔ اس ملاقات کو چند دن ہی گزرے تھے کہ ان کے حساس دل میں چند گرام سیسہ اتار کر انہیں خاموش کر دیا گیا۔
سرب دیال بھی اسی ملاقات میں موجود تھے۔ ہندوؤں کی حالت زار پر ان کا رواں رواں احتجاج کرتا تھا۔ اس کے بعد رنکل کا قصہ ہوا کہ انوشا میگھوار کا، مجھے ہر دفعہ ان کا تمتماتا چہرہ اور اپنی شرمندگی یاد آتی اور میں زمین میں تھوڑا اور گڑ جاتا۔
فرانسس ٹوٹے لہجے میں بتاتا تھا کہ کیسے شہر کے حاکم اعلی نے ان کی عبادت گاہ پر تالے ڈلوا دیے تھے۔ میں سنتا تھا، کبھی ظفر کو دیکھتا تھا تو کبھی حسن معراج کا چہرہ تکتا تھا پھر بے بسی سے اپنی نظریں جھکا لیتا تھا۔ اتنی ہمت تھی نہیں کہ چرن جیت، سرب دیال یا فرانسس کی نگاہ سے نگاہ ملا سکتا۔
ایسی اور بھی کئی ملاقاتیں ہیں۔ ایک دن کچھ احمدی دوست ملنے چلے آئے۔ خوش مزاج، خوش لباس اور خوش مذاق۔ عقیدے کا ذکر نہ انہوں نے چھیڑا نہ یہ تذکرہ میری زبان پر آیا۔ ہنستے ہنستے کہیں والدین کا ذکر چھڑا تو ایک دوست کے چہرے پر کتنی ہی لکیریں کھنچ گئیں۔ معلوم ہوا کہ کچھ سال گزرے، ان کے والد اسی عقیدے کی بھینٹ چڑھا دیے گئے تھے۔ مارنے والوں نے یہی وجہ کافی جانی کہ ان کا تعلق اس جماعت سے تھا جس کے ایمان کا فیصلہ خداوندان ارض نے کیا تھا۔ دوست خود بھی قانون کے شعبے سے تھے پر اتنے لاچار کہ قاتل اب بھی آزاد گھومتے تھے اور ان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان کا گریبان تو دور، دامن ہی پکڑ کر فریاد کر سکیں۔
کوئٹہ کے ہزارہ شیعہ اب قتل ہوتے ہیں تو میں کچھ نہیں لکھتا۔ لکھ لینے سے کیا ہوتا ہے۔ کچھ ہو سکتا تو وہ سارے نوحے جو گزرے سالوں میں لکھے، آج بے دم نہ پڑے ہوتے۔
مجھے اب بھی اس آغا خانی دوست کا چہرہ یاد ہے جس کے فرقے کے بارے میں لاعلم ہوتے ہوئے ایک محفل میں میرے ایک ثقہ ساتھی نے تمام اسماعیلی کمیونٹی کو کافر قرار دے دیا تھا۔ دوست کے چہرے سے خون کھنچ جانے پر جو سفیدی در آئی تھی اس کے صدقے میں پھر کبھی اس ثقہ شخص سے نہیں ملا۔ اور کر ہی کیا سکتا تھا۔
ہنزہ اور پسو کے ان نوجوانوں کے قصے کیا سناؤں آپ کو، جنہیں میدانوں سے گئے فوج، پولیس اور انٹیلی جنس کے شیر جوان روز رسوا کرتے ہیں۔ سندھ کے اس پرانے دوست کی کہانی کیا بتاؤں جس کے گاؤں سے اس کے بھائی کو کچھ وردی والے بٹ مارتے اس لیے لے گئے تھے کہ اس کے منہ میں زبان تھی اور اسے بولنا بھی آتا تھا۔ وزیرستان سے لے کر گوادر تک ان سب بہنوں، ماؤں اور بیٹیوں کی داستان کیسے بیان کروں جو ہاتھوں میں اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھا کر ہر کچھ دن بعد ایک پریس کلب کے صفا سے دوسرے پریس کلب کے مروہ تک سعی کرتی ہیں پر رحم کا کوئی چشمہ اس ریگستان میں نہیں پھوٹتا۔
ابھی کچھ دن ہوئے کہ سوشل میڈیا پر اس ملک میں اہل تشیع پر گزرنے والی ایک کے بعد ایک قیامت کا ذکر کرتی ایک بچی اپنا غصہ، اپنا غم نکالتی کہیں یہ کہہ بیٹھی کہ شیعہ کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے جیسا کسی اقلیت کے ساتھ۔ ۔ یہ کہنا تھا کہ ناصحان امت نے بات کی غایت جانے بغیر اسے اس بات پر مطعون کرنا شروع کر دیا کہ اس نے اہل تشیع کو اقلیت کیوں کہا۔ سمجھانے والوں میں اکثریت اسی فرقے سے تعلق رکھتی تھی جو کہ اس ملک میں ہر لحاظ سے بالا دست رہا ہے۔ انہیں کون بتائے کہ جس تن لاگے، اس تن جانے اور نہ جانیں لوگ۔ من کی پیڑا جانے جس کے جی کو لاگا روگ
بات کی گرہ کھولی تو سوچنے کا ایک اور زاویہ ہاتھ آیا۔ اقلیت ہوتی کیا ہے؟ شماریاتی لحاظ سے تو ہر وہ گروہ جس کی تعداد کم ہو، اقلیت کہلاتا ہے پر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک جغرافیائی وحدت میں ایک گروہ اکثریت رکھے تو باقی سب اقلیت ہوں گے۔ کیا یہ تمیز عقیدے کی بنیاد پر ہو گی، سیاسی بنیاد پر ہو گی، نسلی بنیاد پر ہو گی یا لسانی بنیاد پر ہو گی۔
ہمارے ملک میں اقلیت سے مراد صرف غیر مسلم لیے جاتے ہیں۔ 1974 کے بعد سے سابقہ احمدی مسلک کو بھی بزور قانون اسی اقلیتی دائرے میں دھکیل کر سرکاری طور پر احمدی مذہب کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہم جب بھی اکثریتی جبر یا اقلیتی حقوق کی بات کرتے ہیں تو ہم اس تقسیم سے اوپر اٹھ کر سوچ نہیں پاتے۔ ہمارے نزدیک یہ عقائد کی نہیں بلکہ وسیع تر معانی میں مذہبی تقسیم ہے جس میں ایک طرف مسلم اکثریت ہے اور دوسری جانب غیر مسلم اقلیت۔
سماجی لحاظ سے یہ تعریف نہ صرف خام ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہم اپنے ملک میں موجود بنیادی ناہمواری، نا انصافی اور عدم مساوات کو نہ صرف یہ کہ سمجھ نہیں پاتے بلکہ اس کے حل کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔
سماجی اور عمرانی تعریف کی رو سے ہر وہ شخص اقلیت میں شمار ہو گا جو کہ معاشرے میں اپنے بنیادی اختیار اور بنیادی حقوق یا تو کھو چکا ہو یا ان کے حصول کے لیے مطلوب قوت سے محروم ہو۔ اسی طرح اقلیت کا دائرہ مذہب سے آگے بڑھ کر لسانی، قبائلی، گروہی، فرقہ جاتی یا نسلی بنیاد پر بھی کھینچا جا سکتا ہے۔
چارلس ویگلے اور مارون ہیرس نے 1958 میں ایک تحقیقی مقالے میں اقلیت کی پانچ نشانیاں بتائی تھیں
1۔ غیر مساوی سلوک اور اپنی زندگی میں کم اختیاری
2۔ اکثریت کے مقابلے میں مختلف زبان بولنا یا مختلف رنگ یا چہرے مہرے کا ہونا
3۔ غیر اختیاری طور پر ایک گروہ کی رکنیت پر مجبور رہنا
4۔ دوسروں کے زیر نگین ہونا
5۔ اپنے ہی گروہ یا برادری میں شادی کا رجحان رکھنا
اس کے علاوہ مختلف جنسی رجحان، ایک ایسا عقیدہ جو اس علاقے میں عام نہ ہو اور جسمانی معذوری بھی اضافی یا ضمنی نشانیوں میں شامل ہے۔
تقریبا تمام بشریاتی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سماجی لحاظ سے اقلیت کا تعلق عددی برتری سے نہیں ہے۔ جیسا کہ نسلی عصبیت کے دور میں گرچہ جنوبی افریقہ کے سیاہ فام عددی لحاظ سے اکثریت میں تھے لیکن سماجی لحاظ سے وہ ایک اقلیت تھے۔ آج کے ریاست ہائے متحدہ امریکا میں آئرش یا اطالوی مہاجر مکمل طور پر امریکی معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں اس لیے انہیں اقلیت نہیں سمجھا جا سکتا لیکن لاطینی پس منظر رکھنے والے افراد جو کہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں، اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی رجحان کے باعث اقلیت شمار ہوں گے۔ اسی طرح امریکا کے مسلمان اقلیت گنے جائیں گے لیکن یہودی اقلیت نہیں کہلائیں گے۔ کئی دفعہ ایک گروہ کا اقلیت میں بدلنا محض اکثریتی جبر کا شاخسانہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی اپنی الگ شناخت بنائے رکھنے پر مصر ہونا بھی ہوتا ہے۔ امریکا میں عیسائی مورمن اس کی ایک اور مثال ہیں۔
چلیے اپنے ملک میں لوٹتے ہیں۔ سماجی لحاظ سے اقلیتیں شمار کیجیے تو سانس پھول جائے گا۔ کیا خیبر پختون خواہ میں ہندکو بولنے والے اقلیت نہیں۔ کیا کراچی میں صرف شیدی بلوچ اقلیت ہیں۔ کیا سندھی اور مہاجر اپنا اپنا درد اٹھائے ایک ہی سندھ میں اقلیت نہیں۔ غیر مسلم تو چلیں سرکاری اقلیت ہیں ہی پر کیا ملک کے دس سے پندرہ فی صد شیعہ اقلیت نہیں ہیں۔ کیا بلوچستان کا ہر بلوچ اقلیت نہیں ہے۔ کیا ہنزہ کے اسماعیلی اقلیت میں گنے جائیں گے۔ بات بڑھا دیں تو کیا گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق سے محروم شہری اور کشمیر کے ستر برسوں سے فیصلوں کی، قراردادوں کی صلیب پر جھولتے کشمیری اقلیت نہیں ہیں۔ ذرا پیچھے چلے جائیں تو آبادی میں اکثریت رکھنے والے بنگالیوں کو کیسے اقلیت نہیں کہیں گے۔
کیا سرائیکی صوبے کے نام پر اسمبلی کی سیٹ سرداروں اور مخدوموں کی جھولی میں ڈالنے والے وسیب کے مفلوک الحال اقلیتی نہیں ہیں۔ کیا فاٹا کے ملبے میں دفن ہونے والی لاشیں اور ملبے پر رہنے والی زندہ لاشیں اقلیت ہیں؟ فرقے کی بحث میں پندرہ فی صدی دیوبندی کبھی اقلیت کیوں نہیں رہے اور ساٹھ فی صد اکثریت کے بریلوی صرف اس وقت کیوں اپنے آپ کو طاقت کا مرکز سمجھ پائے جب ان کی قیادت تلوار، بندوق اور مغلظات کے حاملین کے ہاتھ میں آ گئی؟ جان کی امان پائیے تو کیا یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اس ملک ضیا داد میں ووٹ ڈالنے والے عوام اقلیت ہیں یا فیصلہ کرنے والے غیر عوام اقلیت ہیں؟
جبر محض اکثریت سے مخصوص نہیں ہے۔ جبر کا دستور وہ لکھتے ہیں جن کے ہاتھ میں مذہب، عقیدے، نسل، زبان یا محض اندھی طاقت ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔ یہ وہ طبقے ہیں جو اپنے اپنے دائرے میں شمولیت یا inclusion سے گریز برتتے ہیں اور اخراج یا exclusion پر اصرار کرتے ہیں۔
دیکھیے، بات یوٹوپیائی نہیں ہے۔ سکینڈے نیوین معاشرے بڑی حد تک ایسے نظام میں ڈھل چکے ہیں جہاں اقلیت کا تصور معدوم ہو گیا ہے۔ وہاں کہنے کی حد تک نہیں بلکہ عمل کی حد تک گورے کو کالے پر، عیسائی کو غیر عیسائی پر، مرد کو عورت پر برتری یا تو رہی نہیں یا پھر یہ اس حد تک غیر موثر ہے کہ کسی کو امتیازی سلوک کا شکوہ نہیں رہا۔ کسی کو مختلف عقیدہ، مختلف جنسی رجحان یا مختلف سیاسی میلان رکھنے پر استحصال کا نشانہ بنانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ایسا نہیں کہ اب بھی مسائل نہیں ہیں۔ بے شک ہیں پر وہ معاشرے اس سمت تیزی سے گامزن ہیں جو انسانیت کی معراج کہلائی جا سکتی ہے۔
رہ گیا ہمارا سوال تو ہم اس کے مقابل ایک ایسی پھسلواں ڈھلوان پر ہیں جہاں ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں تو تین قدم پیچھے سرک جاتے ہیں۔ دنیا اقلیتیں ختم کر رہی ہیں۔ ہم روز نئی اقلیتیں بنا رہے ہیں۔ اور اس میں بھی ہم نے وہ کمال حاصل کیا ہے جہاں مقننہ کے کندھے پر بندوق رکھ کر بھی قانونی اور آئینی طور پر اقلیتی تشکیل کی گئی ہے۔ یاد رکھیے کہ ہر وہ گروہ اقلیت ہے جس سے ارادی یا غیر ارادی طور پر امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہو۔ یہ امتیاز ختم ہوتا ہے تو اقلیت اپنی زنجیروں سے رہائی پاتی ہے اور اکثریت کا حصہ بنتی ہے۔ باقی سب افسانہ ہے۔
یہ سوال میں آپ کے لیے چھوڑے جا رہا ہوں کہ ایسا کیا کیا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے اقلیتی دائروں کی انمٹ لکیروں کو مٹایا نہ جا سکے تو کسی طرح ان پر کھڑی کی گئی دیواروں میں کچھ رخنے، کچھ روزن ہی بنا لیے جائیں۔ کہیں سے ہوا آنے کا کوئی امکان پیدا کیا جا سکے۔ دیواروں کے اس پار دیکھنے کی کوئی سبیل نکالی جائے کہ ذہن سازی کے قتیل اپنے اپنے کنوؤں کے باسیوں کو یہ سمجھایا جا سکے کہ ہر فصیل کے پیچھے انہی کے جیسے انسان بستے ہیں۔
اپنے اپنے جواب لکھتے ہوئے ہو سکتا ہے کچھ سوال آپ کو اپنے آپ سے بھی کرنے پڑ جائیں۔ اس کے جواب میں تاویل کو کانوں پر لپیٹنا پڑے تو سمجھ لیجیے گا کہ آپ بھی اسی جبر میں شامل ہیں۔ آپ بھی برابر کے ملزم ہیں۔ وقت کے کٹہرے میں ایک دن تاریخ آپ کا حساب بھی کرے گی اور آپ پر فرد جرم بھی عائد کرے گی۔ رہی سزا تو اپنے اردگرد دیکھیے، سزا تو کب کی شروع ہو چکی ہے۔
نشر مکرر
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.