Skip to main content

Zama Jwand Aw Jadojehad By Bacha Khan Baba.

 Zama Jwand Aw Jadojehad By Bacha Khan Baba.


انسپکٹرسے کہو کہ ہم ڈھول باجہ بند نہیں کرینگے

.1931

 ایبٹ آباد


  جب حکومت کو معلوم ہوا کہ کل جمعہ کادن ہے اور جامع مسسجد میں ایبٹ آباد کے مقامی لوگوں کے علاوہ باہر سے بھی لوگ نماز پڑھنے کیلئےآٰئینگے تویہ جلسہ اُنکے لئے اچھا نہیں ہوگا تو ڈپٹی کمشنر نے امام مسجد اور کمیٹی ممبران کوبلایا اور انکو کہا کہ جو بھی طریقہ ہوسکتاہے باچاخان کو تقریر سے روک لو ہم نے رات آرام سے گزاری چائے پی رہے تھے کہ امام صاحب کمیٹی ممبران کے ساتھ آئے اور میرے ساتھ بات کی میں نے امام صاحب سے کہا کہ ڈپٹی کمشنر سے کہو کہ ہم یہ کام نہیں کرسکتے کیونکہ مسجد تو سب مسلمانوں کا ہے اور کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو مسجد میں وعظ کرنے سے نہیں روک سکتا 


یہ ہمارا مذھب ہے اور ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں آپ کے پاس طاقت آپ کیوں نہیں روکناچاھتے لوگ جب ڈپٹی کمشنر کے پاس گئے تواسے پتہ چل گیا کہ میرا داؤ نہیں چلا تو پھر رُک گیا مسجد میں مسلمانوں اور ھندوؤں کی اتنی زیادہ تعداد تھی کہ پاؤں رکھنے کی جگہ نہ تھی نماز کے بعد میں اُٹھا اور تقریر شروع کی تو  قرآن پاک کی  چار آیتیں پڑھی اور اسکا ترجمہ لوگوں کوسنایا کہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ  مُجھ سے مدد صبراور اتفاق کے ساتھ مانگو اور اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ جومیرے راستے میں مرجائے یہ مُردہ نہیں زندہ ہے لیکن آپ لوگ یہ نہیں سمجھتے اور اللہ فرماتے ہیں کہ میں صبر کرنے والوں کادوست ہوں اور پھر فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندوں کو آزماتا ہوں ان کے مال وجان ،انکے اولاد اور فصلوں سے جب کھبی ان کو میرے راستے میں نقصان پہنچتا ہیں تو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کے جاناہیں یہ لوگ میری رحمت کے حقدار ہیں اور سیدھے راستے پر ہے اور دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ تم لوگوں میں ایک جماعت ایسی ہونی چاھیئے جو اپنے کام چھوڑ کرجائے اور لوگوں کو برائی سے روکے اور نیکی کی طرف بلائے میرے بھائیوں ہم نے خدا کیلئے خدا کے مخلوق کی خدمت کیلئے کمر کس لئے ہیں اگر تم لوگ خدا کے مخلوق کی خدمت کرناچاھتے ہو اور خدا کو راضی کرناچاھتے ہوتو ہمارے ساتھ خدائی خدمتگاری کیلئے کمر کس لو کہ یہ دنیا بھی جنت بن جائے اور اخرت میں بھی جنت کے حقدار بن جائے۔ جلسہ بہت کامیابی کے ساتھ اختتام پزیرہوا


 جانے کا انتطام کررہے تھے کہ ہمارے علاقے کے خان کا بیٹے جو وہاں سب انسپکٹرتھا میرے پاس آیا اور کہا کہ مجھے انسپکٹربہادرخان  نے آپکے پاس بھیجا ہے کہ جب اپ لوگ یہاں سے روانہ ہو تو ، ڈھول باجہ ،نہ بجائے میں نے کہا کہ بہادر خان تو ہمارا بھائی ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ ڈھول باجہ بجانے سے اُسے کیوں تکلیف ہے؟ میری طرف سے سلام کے بعد کہہ دو کہ اگر ڈھول باجہ بجانے سے اُسکو ذاتی تکلیف ہے تو ہم ڈھول باجہ بند کردینگے لیکن اگرآپکا کوئی نقصان نہیں تو ہمارے ڈھول باجے کا کیا کرنا ہے ہمارے ملک میں دیسی آفیسراپنے فرائض کونہیں جانتے اور نہ پورا کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ اپنے انگریز افسروں کیلئے کام کرتے ہیں جو اُنکا فرض نہیں ہوتا



۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری زندگی اور جدوجہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments