حج کرنے کے بعد میں بیت المقدس چلاگیا وہاں بہت سے علاقوں کا دورہ کیا یہودیوں نے اپنی زمینوں پر نئے شہر بسائے تھے زرعی زمینوں پر فصلیں اگائی تھی میں جس علاقے میں بھی جاتا وہاں کے لوگوں سے پوچھتا کہ یہ زمینیں کس کی ہے تو کہتے تھے کہ یہ صحرا اور بنجر زمینیں ہماری ہے اور جن پر فصلیں ہے پودے ہیں شہر ہے جنگلات ہے یہ یہودیوں کی ہے تو میں نے ان سے کہا کہ بھائیوں یہ آپ کس دنیاں میں رہ رہے ہیں میں جہاں بھی دیکھتا ہوں یہودیوں نے اپنی زمینوں کو آباد کیا ہے انہوں نے فصلیں لگائی ہے باغات بنائے ہے لیکن آپ کچھ نہیں کرتے اگر عقل نہیں ہے انکھیں تو ہیں ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ یہ بنجر زمینیں ہم نے یہودیوں کو اسلئے دی ہے تاکہ وہ ان پر نئے شہر بنائے جنگلات، محلات بنائے یہ آخری صدی ہے پھر امام مہدی آئنگے اور وہ یہ ساری زمینیں ان سے لیکر ہمیں دینگے اب کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ جاکر ان عرب بھائیوں سے پوچھوں کے انیسویں صدی ختم ہوگئی لیکن امام مہدی نہیں آئے تو یہ زمینیں آپکی ہوئی یا یہودیوں کی ۔
باچا خان بابا کی کتاب ٫٫میری زندگی میری جدوجہد،، سے اقتباس

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.