Skip to main content

Jang E Malakand And Chakdara 1897 By Utmankhail and Other Tribes. Malakand Pedia

 مالاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ (1897ء): اتمان خیل 

قبائل کی شمولیت اور برطانوی فوجی ریکارڈز

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پس منظر

1897ء میں برطانوی ہندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے میں قبائل کی جانب سے برطانوی حکمرانی کے خلاف ایک منظم بغاوت شروع ہوئی، 

جسے مالاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس بغاوت میں مختلف قبائل بشمول اتمان خیل، سواتی، عدن زئی، شمو زئی، باجوڑی اور دیر میدان کے لوگ شامل ہوئے۔ ان قبائل کی شمولیت نے برطانوی فوج کے لیے ایک سنگین چیلنج پیدا کیا، کیونکہ یہ قبائل اپنی جغرافیائی اور ثقافتی خصوصیات کی وجہ سے جنگی حکمت عملی میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔ 


#جنگ_کی_تفصیلات

چکدرہ کا محاصرہ: 26 جولائی 1897ء کو عدن زئی اور شمو زئی سواتیوں نے چکدرہ قلعہ پر حملہ کیا۔  اس کے بعد یہ محاصرہ مزید وسیع ہوگیا اور مختلف قبائل بشمول سواتی، عدن زئی، شمو زئی، اتمان خیل، باجوڑی اور میدان کے لوگ ایک بڑے لشکر کی صورت میں قلعہ پر مسلسل حملے کرتے رہے، جو 2 اگست تک جاری رہا۔   اتمان خیل قبیلے کے افراد نے اس جنگ میں نمایاں حصہ لیا۔ برطانوی فوجی ریکارڈز کے مطابق، اتمان خیل، سواتی، عدن زئی، اور دیگر قبائل کے مجموعی طور پر 12,000 سے زائد جنگجو برطانوی فوج کے خلاف صف آرا ہوئے۔اس جنگ میں اتمان خیل قبیلے کے سردار ملک میرُو مارے گئے۔ ان کی شہادت نے اتمان خیل قبائل کو مزید برطانوی حکمرانی کے خلاف اُکسایا۔ 


#برطانوی_فوجی_ریکارڈز

برطانوی فوجی ریکارڈز اور دستاویزات میں اس جنگ کی تفصیلات درج ہیں، جن سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ کس طرح قبائل نے برطانوی فوج کے خلاف مزاحمت کی۔  ان ریکارڈز میں جنگ کی تاریخ، شامل قبائل، جنگی حکمت عملی اور برطانوی فوج کی کارروائیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ 

مالاکنڈ اور چکدرہ کی جنگ نے برطانوی حکمرانی کے خلاف قبائل کی متحد مزاحمت کو اجاگر کیا۔  اتمان خیل قبیلے کی شجاعت اور قربانیوں نے اس جنگ کو ایک اہم تاریخی موڑ دیا۔  یہ جنگ نہ صرف برطانوی فوج کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوئی بلکہ قبائل کی آزادی کی جدوجہد کی علامت بھی بنی۔

( ✍️  تحریر رحمان الله رحمانی )

Comments