Skip to main content

آج کے دن: 16 اکتوبر 1951 — پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا قتل

 

آج کے دن: 16 اکتوبر 1951 — پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کا قتل


آج سے 74 سال قبل، 16 اکتوبر 1951ء کو پاکستان کی تاریخ کا ایک المناک باب رقم ہوا۔ اسی دن پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم، نوابزادہ لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ (جو اب لیاقت باغ کہلاتا ہے) میں ایک عوامی جلسے کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔


قاتل کی شناخت ایک افغانی شہری سیّد اکبر کے طور پر ہوئی، جسے موقع پر ہی پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ یوں اس افسوسناک واقعے کے کئی اہم پہلو ہمیشہ کے لیے پردۂ راز میں چلے گئے۔


لیاقت علی خان، جو قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کے قریبی ساتھی اور پاکستان کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے، مملکت کے ابتدائی ایام میں سیاسی استحکام اور نظریاتی سمت کے ضامن سمجھے جاتے تھے۔ 


اُنہوں نے قراردادِ مقاصد پیش کر کے پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ اُن کے قتل کے بعد ملک ایک طویل سیاسی غیر یقینی اور عدم استحکام کے دور میں داخل ہو گیا۔

قاتل کے محرکات آج تک ایک معمہ ہیں۔ کچھ لوگ اسے بین الاقوامی سازش قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ اندرونی سیاسی اختلافات کا شاخسانہ تھا۔ 


مگر حقیقت یہ ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل نے پاکستان کی سیاست کو ایک ایسا زخم دیا جو آج تک نہیں بھرا۔

لیاقت علی خان کو اُن کی قومی خدمات کے اعتراف میں قائدِملت کا لقب دیا گیا، اور اُن کی یاد میں راولپنڈی کے کمپنی باغ کا نام لیاقت باغ رکھا گیا۔


On this day, October 16, 1951, Liaqat Ali Khan, the first PM of Pakistan, was assassinated in Rawalpindi by Afghan national Said Akbar.

Urdu blogpost

Comments