Skip to main content

کابل میں پاکستانی فضائی حملے: 300 سے زائد زخمی، درجنوں جان بحق

 کابل میں پاکستانی فضائی حملے: 300 سے زائد زخمی، درجنوں جان بحق— طالبان نے سوشل میڈیا پر پابندی لگا دی

Sami Yousafzai„ London Based Afghan Journalist.

کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے شدید حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور تین سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ طالبان حکومت اور مقامی اسپتال ذرائع نے اس ہولناک واقعے کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق حملہ شہید چوک 

(Shaheed Roundabout)

اور تایمانی کے قریب کیا گیا، جب سڑک پر گاڑیوں اور عام شہریوں کا شدید رش تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے اتنے زور دار تھے کہ ایک آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

طالبان کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ فضائی حملے کا ہدف وہ مکانات تھے جہاں غیر ملکی مجاہدین کی موجودگی کا شبہ تھا۔ تاہم حملہ اتنے گنجان اور مصروف علاقے میں کیا گیا کہ عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

مقامی اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ درجنوں لاشیں جل کر ناقابلِ شناخت ہو چکی ہیں جبکہ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حملے کے فوراً بعد طالبان حکام نے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کر دی تاکہ متاثرہ علاقے کی تصاویر اور ویڈیوز عوام تک نہ پہنچ سکیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان عارضی جنگ بندی 

(Ceasefire)

پر اتفاق ہو چکا ہے، جو آج شام سے نافذالعمل ہونا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس حملے نے دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اگر فوری طور پر سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو خطہ ایک وسیع تر تصادم کی طرف جا سکتا ہے۔




📍 ماخذ: Sami Yousafzai X Account.
✍️ ترجمہ
📅 تاریخ: 15 اکتوبر 2025


Comments