ٹماٹر — ریر ارتھ ویجٹیبل یا ڈرائی فروٹ؟
از: سامی اللہ خاطر
پاکستان میں اجکل ٹماٹر کا معاملہ کچھ ایسا ہے جیسے کسی زمانے میں سونا مہنگا ہوا کرتا تھا۔ پہلے لوگ ٹماٹر کو سلاد یا سالن کا حصہ سمجھتے تھے، اب وہ اسے زیور کی طرح الماری میں بند رکھتے ہیں اور مہمانوں کے آنے پر تھوڑا سا دکھا کر کہتے ہیں
"جی، یہ اصلی ٹماٹر ہے… مارکیٹ سے لیا ہے، بس خوشبو کے لیے۔"
کل تک جو چیز آلو، پیاز کے ساتھ ایک ہی تھیلی میں آتی تھی، آج وہ فریج میں الگ خانے میں رکھنی پڑتی ہے تاکہ کوئی چھوٹا بچہ غلطی سے چھو نہ لے۔
قیمت کا قصہ
خبر ہے کہ ٹماٹر 700 روپے کلو ہوگیا ہے۔ جی ہاں، سات سو! اب تو یوں لگتا ہے جیسے ٹماٹر نہیں، “ٹماٹر شریف” ہو گیا ہے — عزت دار، مہنگا، اور عوام کی پہنچ سے دور۔
بازار میں سبزی والا بھی اب اسے محبت سے نہیں، پروٹوکول سے بیچتا ہے۔ پہلے کہتا تھا: "کلو دو؟"
اب کہتا ہے: "صاحب، کتنے گرام چاہییں؟"
میمز کی دنیا میں ٹماٹر
سوشل میڈیا پر قوم نے ٹماٹر کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ کہیں لکھا ہے
“Rare Earth Vegetable"
تو کہیں کسی نے اعلان کیا ہے کہ "اگلے سال اسے خشک میوہ جات میں شامل کرنے کی مہم شروع کی جائے گی"۔
کسی نے تو لکھا کہ "جو لڑکا لڑکی کو ٹماٹر کا گفٹ دے، وہ محبت میں مخلص ہے۔"
ٹماٹر کی حفاظت
اب تو گھروں میں ٹماٹر رکھنے کے لیے بھی سیکیورٹی پلان بن رہے ہیں۔ کسی کے گھر میں سیف لاکر میں بند ہیں، کسی نے فریزر میں پاس ورڈ لگا رکھا ہے۔ اور جو ٹماٹر خراب ہو جائے، تو اسے زمین میں دفن کرکے فاتحہ پڑھتے ہیں۔
سیاست اور ٹماٹر
ادھر سیاست دان بھی خاموش نہیں۔ ایک نے کہا: "حکومت نے ٹماٹر کی قیمتیں قابو میں رکھ لی ہیں۔"
دوسرے نے جواب دیا: "ہاں، کیونکہ اب کسی کے پاس خریدنے کے پیسے ہی نہیں۔"
آخر میں
ہم پاکستانی قوم ہیں، ہنستے ہوئے مصیبتوں کو برداشت کرنے والی۔ چاہے ٹماٹر سات سو کا ہو یا ہزار کا، سالن میں سرخ رنگ پھر بھی ڈال لیں گے — چاہے وہ لال مرچ سے ہی کیوں نہ ہو۔
آخر میں عرض ہے:
"ٹماٹر اگر مہنگا ہو جائے، تو دل میں اُگالو — کم از کم خوابوں میں تو سالن سستا رہے گا!" 🍅

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.