بخدمت جناب ہیڈ ماسٹر صاحب گورنمنٹ ہائی اسکول اف امریکہ
Head Master Govt. High School of U.S.A — Mr. Donald Trump)
بالمشافہ وائٹ ہاؤس، واشنگٹن ڈی سی، یو ایس اےعنوان: درخواست برائے صلح بین گاؤں بڈالئی و ماتاڑ نہاگدرہ، دیر اپر
جنابِ عالی
باادب عرض ہے کہ فدوی کے گاؤں کے دو "جگر گوشے" یعنی بڈالئی اور ماتاڑ، پچھلے پچاس سالوں سے ایک پہاڑی ٹکڑے پر ایسے لڑ رہے ہیں جیسے وہ سونا کی کان ہو، حالانکہ اس میں گھاس بھی نہیں اگتی۔
جنابِ عالی!
ان لڑائیوں میں اب تک سو سے زائد نوجوان موت کے منہ میں تشریف لے چکے ہیں، مگر افسوس کہ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ "پہاڑی کے اس پار آخر ہے کیا؟"
کہا جاتا ہے کہ وہاں ایک پتھر کا چشمہ ہے، جو دونوں فریقوں کے نزدیک دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔
عزت مآب! آپ چونکہ دنیا کے سب سے بڑے اسکول کے ہیڈ ماسٹر ہیں، اس لیے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنی ٹوپی سیدھی کریں، وائٹ ہاؤس کا کال بیل دبائیں، اور ذرا ہمارے اس “پہاڑی ہوم ورک” پر نظر ڈالیں۔
شاید آپ اپنی ٹرمپ اسٹائل ڈیل آرٹ
("Art of the Deal")
سے دونوں گاؤں کے مائیک بند کروا سکیں اور ان کے ہاتھوں سے بندوقیں چھین کر بیلچہ اور کتاب پکڑا سکیں۔
فدوی کی اور بھی گزارش ہے کہ آپ اعلان کریں
“جو گاؤں امن کرے گا، اسے امریکہ کے کسی اسکول میں آن لائن اسکالرشپ دی جائے گی،
اور جو لڑے گا، اسے فیس بک پر بلاک کر دیا جائے گا!”
جناب! گلف میں کام کرنے والے بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ اپنی محنت کی کمائی سے اب گولیاں نہیں، بلکہ گھروں، اسکولوں، اسپتالوں میں سرمایہ کاری کریں۔
پہاڑ تو ویسے بھی اللہ کے ہیں، ہم تو صرف چند سال کے کرایہ دار ہیں۔
العارض
العارض: سمیع اللہ خاطر
شہریِ دیر اپر، محکمہِ عقل و طنز
مورخہ: ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۵ء
😄

Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.