Skip to main content

پالیسیوں میں تبدیلی طالبان اور پاکستان کے تعلقات: میٹھے دوستی سے تلخ دشمنی تک

پالیسیوں میں تبدیلی

طالبان اور پاکستان کے تعلقات: میٹھے دوستی سے تلخ دشمنی تک

✍️ تحریر:بلال سروری ، افغان صحافی

2021ء میں جب کابل کی جمہوری حکومت کا خاتمہ ہوا اور طالبان دوبارہ برسرِ اقتدار آئے تو خطے میں سب سے پہلا ملک جس نے اُن کے اقتدار کا خیرمقدم کیا، وہ پاکستان تھا۔ اسلام آباد نے طالبان کے اقتدار کو “عبوری حکومت” کا نام دیا، اُن کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے، کابل میں سفارت خانہ فعال رکھا، اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو اعلیٰ سطحی دورے پر بھیجا۔ طالبان کے ساتھ برتاؤ ایک رسمی حکومت جیسا تھا۔

کابل میں پاکستانی سفارت خانہ متحرک رہا، پاکستانی سفیر طالبان کے وزراء سے ملاقاتیں کرتے رہے، طالبان کے پرچم لہرائے گئے، اور دونوں ممالک کے تعلقات ’’اسلامی برادری‘‘ کی بنیاد پر استوار دکھائی دیتے تھے۔ طالبان پاکستان کو “اسلامی جمہوریہ” اور “مسلمان ہمسایہ” کے القابات سے یاد کرتے تھے، جبکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے منیر اکرم طالبان کی نمائندگی سے ملتے جلتے مؤقف اختیار کرتے تھے۔

طالبان کے وزیر داخلہ اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ، خلیفہ سراج الدین حقانی نے پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کیا۔ یہ بات چیت کابل کے سرینا ہوٹل میں شروع ہوئی، لیکن جب مذاکرات بے نتیجہ رہے تو پاکستان نے ٹی ٹی پی کے ایک اہم کمانڈر ابو مسلم خراسانی (عبدالولی مومند) کو پکتیکا میں نشانہ بنایا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب تعلقات کی گرمی ٹھنڈی پڑ گئی۔
اس کے بعد ڈيورنڈ لائن پر جھڑپیں بڑھ گئیں، پاکستان نے افغان سرزمین پر فضائی حملے کیے، اور یوں ایک نئی کشیدگی نے جنم لیا۔ طالبان نے بھی جوابی کارروائیاں کیں اور تعلقات ’’بھائی چارے‘‘ سے نکل کر ’’محاذ آرائی‘‘ کی صورت اختیار کر گئے۔

پاکستان، جو کبھی طالبان حکومت کو “نجات دہندہ” کہتا تھا، اب اپنی سرکاری بیانات میں “عبوری حکومت” کے بجائے “طالبان رجیم” کی اصطلاح استعمال کر رہا ہے، اور “جامع حکومت” کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہے۔ طالبان نے بھی ردعمل میں “پاکستان کی اسلامی جمہوریہ” کے بجائے “پاکستانی فوجی نظام” کی اصطلاح اپنائی — جو ایک واضح سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔

فی الحال دونوں ممالک کے نمائندے دوحہ میں قطر کی ثالثی میں مذاکرات کر رہے ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنماؤں پر قابو پائیں یا اُنہیں اسلام آباد کے حوالے کریں، جبکہ طالبان پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ داعش کے خلاف کارروائی کرے اور اُن کے مطلوب رہنماؤں کو افغانستان کے حوالے کرے۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت باہمی تعاون کے بجائے صرف اپنی اپنی سکیورٹی خدشات کے گرد گھوم رہی ہے۔

درحقیقت، طالبان اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ تزویراتی مفادات کی بنیاد پر استوار رہے ہیں، نہ کہ نظریاتی یا مذہبی بھائی چارے پر۔ جب مفادات کا توازن بگڑتا ہے تو برادری دشمنی میں بدل جاتی ہے — اور اس بار بھی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا دوحہ کے مذاکرات اعتماد کی کوئی نئی راہ کھول سکیں گے یا پھر یہ عمل سرحدی جھڑپوں کے ایک نئے دور کا آغاز بنے گا؟

وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا


جبکہ دوسری طرف دوہا قطر سے تازہ ترین اطلاعات


‏دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔


پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دوحہ میں اہم مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔


وزیردفاع خواجہ آصف کی قیادت میں پاکستانی وفد مذاکرات میں شریک ہے جبکہ افغانستان سے پاکستان میں دراندازی روکنا مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔


ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات کا محور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔


پاکستان واضح کرچکا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد گروپس کی موجودگی کسی صورت قبول نہیں۔

Comments