Skip to main content

Posts

Showing posts from March, 2026

Kurd People. Urdu Info about Kurds

  کرد (Kurds) تقریباً 3 سے 4 کروڑ افراد پر مشتمل ایک نسلی گروہ ہیں جو زیادہ تر ترکی، عراق، ایران اور شام میں آباد ہیں۔ یہ ایک ایسی زبان بولتے ہیں جو فارسی (Persian) سے ملتی جلتی ہے، اور ان کی اکثریت سنی مسلمان ہے۔ 1920 کی دہائی میں ہونے والے بین الاقوامی معاہدوں کے نتیجے میں کردوں کی سرزمین کو نئے بننے والے ممالک کے درمیان تقسیم کر دیا گیا، جس کی وجہ سے کردوں کو اپنی الگ ریاست نہیں مل سکی۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران کرد گروہوں نے ان چاروں ممالک میں خودمختاری یا آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ترکی: ترکی کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد کردوں پر مشتمل ہے۔ ایک کرد مسلح تنظیم PKK (کردستان ورکرز پارٹی) 1984 سے ریاست کے خلاف لڑ رہی ہے، اور اس تنازعے میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراق: عراق کے شمال میں کردوں نے ایک نیم خودمختار علاقہ قائم کر رکھا ہے جس کی اپنی حکومت ہے، تاہم تیل کی آمدنی اور دیگر مسائل پر عراق کی مرکزی حکومت کے ساتھ کشیدگی رہتی ہے۔ شام: شام کی خانہ جنگی کے دوران 2014 سے کرد جنگجوؤں نے داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر لڑائی کی اور 2026 تک شما...

Pak Afghan Relations over the years

 پاک افغان تعلقات: پہلی قسط پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات آغاز ہی سے تناؤ اور کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس موضوع پر بہت پہلے لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ناسازئ طبع کی وجہ سے وقت نہ مل سکا۔ آج اس سلسلے کی پہلی قسط پیشِ خدمت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ان مسائل کی جڑ کہاں ہے، یہ کب شروع ہوئے اور ان کے پیچھے محرکات کیا تھے۔ 1946ء کے صوبائی انتخابات ہوئے تو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی کی کل 50 نشستوں میں سے کانگریس کے پاس 30 جبکہ مسلم لیگ کے پاس 17 سیٹیں تھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب، جو باچا خان کے بڑے بھائی تھے، صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اسی دوران 3 جون 1947 کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے تحت ہندوستان کی دو ریاستوں میں تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ اس منصوبے میں مختلف صوبوں اور شاہی ریاستوں کے لیے الحاق کے الگ الگ طریقے وضع کیے گئے تھے۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے لیے استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کا راستہ اختیار کیا گیا، جہاں عوام کے پاس صرف دو آپشن تھے: پاکستان میں شمولیت یا بھارت میں شمولیت۔ باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کا موقف یہ تھا کہ ریفرنڈم کے سوالات بہت محدود ہیں۔ ...

If your father or mother is above 67, please pause and read this slowly.

 If your father or mother is above 67, please pause and read this slowly. At that age, life begins to feel different for them. The world moves faster, but their bodies move slower. The things they once did effortlessly now require effort. Their strength is not what it used to be, and even if they don’t say it, they feel it. What they need now is not pressure. Not stress. Not arguments about money or past mistakes. They need stability. They need reassurance. They need to feel safe. If they have savings, protect it. This is not the stage for risky investments or “let’s try this opportunity.” It is the stage for preservation. Capital safety matters more than high returns. Peace of mind matters more than profit. If they depend on you financially, don’t see it as a burden. See it as a privilege. The same hands that once carried you are now weaker. The same voices that defended you now speak softer. Support them with dignity, not pity. And beyond money, give them something deeper. Call t...

Options With Iran. Urdu Explainer.

 Options With Iran. Urdu Explainer. ‏ایران کے پاس 2500کے لگ بھگ بلاسٹک میزائل موجود ہیں۔ ایران روزانہ مختلف لہروں میں سو کے لگ بھگ میزائل فائر کرتا ہے۔ اس مسلسل گولہ باری کا بنیادی مقصد اسرائیل کے جدید دفاعی نظام 'آئرن ڈوم' اور 'ایرو' (Arrow) کو تھکانا اور ان کے مہنگے انٹرسیپٹرز کو ضائع کروانا ہے۔ دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ایک کلیدی نکتہ ہے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ موجود بھی ہو، لیکن انہیں لانچ کرنے والی متحرک گاڑیاں (Launchers)  تباہ ہو جائیں، تو حملوں کی شدت میں خود بخود کمی آ جائے گی۔ ایسی صورت میں جنگ طول تو پکڑ سکتی ہے لیکن اس کی تباہ کن قوت برقرار رکھنا ایران کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران ماہانہ درجنوں  (70 سے 100)  نئے میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ مسلسل اپنی پیداواری صلاحیت کو درجنوں سے سینکڑوں پہ لے جانا چاہتا ہے تاکہ 2027 تک میزائلز کا ذخیرہ 8000تک کر سکے۔  اس  نے میزائل ساز فیکٹریاں زمین دوز کر رکھی ہے۔ لیکن موجودہ جنگی ...