پاک افغان تعلقات: پہلی قسط
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات آغاز ہی سے تناؤ اور کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس موضوع پر بہت پہلے لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ناسازئ طبع کی وجہ سے وقت نہ مل سکا۔ آج اس سلسلے کی پہلی قسط پیشِ خدمت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ان مسائل کی جڑ کہاں ہے، یہ کب شروع ہوئے اور ان کے پیچھے محرکات کیا تھے۔
1946ء کے صوبائی انتخابات ہوئے تو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی کی کل 50 نشستوں میں سے کانگریس کے پاس 30 جبکہ مسلم لیگ کے پاس 17 سیٹیں تھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب، جو باچا خان کے بڑے بھائی تھے، صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے۔
اسی دوران 3 جون 1947 کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے تحت ہندوستان کی دو ریاستوں میں تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ اس منصوبے میں مختلف صوبوں اور شاہی ریاستوں کے لیے الحاق کے الگ الگ طریقے وضع کیے گئے تھے۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے لیے استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کا راستہ اختیار کیا گیا، جہاں عوام کے پاس صرف دو آپشن تھے: پاکستان میں شمولیت یا بھارت میں شمولیت۔
باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کا موقف یہ تھا کہ ریفرنڈم کے سوالات بہت محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سرحد کی جغرافیائی اور ثقافتی حیثیت منفرد ہے، اس لیے عوام کو "آزاد پختونستان" کا تیسرا آپشن بھی دیا جانا چاہیے۔ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے یہ تجویز قبول نہیں کی، تو باچا خان نے ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
اس سلسلے میں 21 جون 1947 کو بنوں میں خان عبد الغفار خان، خدائی خدمتگاروں اور دیگر رہنماؤں کا ایک بڑا جرگہ منعقد ہوا۔ اس جرگے میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پشتونوں کو "آزاد پختونستان" قائم کرنے کا حق دیا جائے۔ اس بنوں جرگے کی قیادت افضل خان، قاضی عطا اللہ اور باچا خان نے کی تھی۔
بلکہ جرگے کے قرادر کا کا شہہ سرخی یہ تھی پختون پاکستان اور بھارت دونوں میں کسی کو نہیں چاہتے بلکہ اپنا الگ وطن ۔۔۔۔۔۔
بالآخر، 6 جولائی سے 17 جولائی 1947 تک ریفرنڈم منعقد ہوا اور نتائج کے مطابق اکثریت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔
فق
فقیر ایپی ( اصل نام مرزا علی خان) نے برطانوی دور ہی سے وزیرستان کے پہاڑوں کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا رکھا تھا اور وہ برطانیہ کے خلاف مسلح مزاحمت کرتے رہے تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے "پختونستان تحریک" کی حمایت کا اعلان کیا اور گورویک کو آزاد پختونستان کا دارالحکومت قرار دیا۔ گورویک کے ذریعے انہیں افغانستان کے علاقے خوست تک آسان رسائی حاصل تھی۔
(1947 سے 1960 (فقیر ایپی کی وفات) تک پاکستانی سکیورٹی اداروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کابل سے انہیں بھرپور مدد ملتی رہی اور کابل ریڈیو ان کے حق میں پروپیگنڈا اور تجزیے نشر کرتا رہا)
پاکستان کی آزادی کے محض ڈیڑھ ماہ بعد، افغانستان نے بین الاقوامی اسٹیج پر پہلی بار اپنی مخالفت کا اظہار کیا۔ 30 ستمبر 1947 کو اقوامِ متحدہ میں افغان مندوب حسین عزیز نے پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے کہا:
"ہم شمال مغربی سرحد کو پاکستان کا حصہ اس وقت تک تسلیم نہیں کر سکتے جب تک وہاں کے عوام کو کسی بھی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر اپنی آزادی یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔
اگرچہ پاکستان کو رکنیت مل گئی، لیکن یہ واحد مخالف ووٹ ریکارڈ پر آگیا اور پاکستان اس۔ قرادر کو بنوں جرگے کا کا دُوسرا ورژن ہی سمجھ رہے تھے
خیر پاکستان طرف اس وقت مندوب یہ قرادر کاؤنٹر کیا جو کہ بعد حسین عزیز نے واپس لیا
۔ اس کے بعد 26 جولائی 1949 کو افغانستان کی پارلیمنٹ (لوئی جرگہ) نے ایک قرارداد کے ذریعے برطانوی ہند کے ساتھ کیے گئے تمام سابقہ معاہدات (بشمول ڈیورنڈ لائن 1893، معاہدہ کابل 1905، معاہدہ راولپنڈی 1919 اور معاہدہ کابل 1921) کو یکطرفہ طور پر منسوخ قرار دے دیا۔ (یاد رہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق دو طرفہ معاہدے یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں ہو سکتے)۔
13 اگست کو کابل میں باقاعدہ پختونستان تحریک کی پرچم کشائی ہوئی اور اس دن کو اس تحریک کے مخصوص دن کے طور پر مقرر کیا گیا۔ کابل میں یہ دن بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا رہا۔ اس وقت سردار داؤد خان افغانستان کے وزیرِ دفاع تھے اور یہ تمام اقدامات انہی کی ہدایات پر ہو رہے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ایک طرف فقیر ایپی کے حملے جاری تھے تو دوسری طرف پاکستان کشمیر کے محاذ پر بھارت کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔ اور پاک افغان تعلقات تناؤ اور کشیدگی کے پہلے مرحلے میں داخل ہوگے
جاری ہے...
باچا نگرام






Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.