Skip to main content

Options With Iran. Urdu Explainer.

 Options With Iran. Urdu Explainer.

‏ایران کے پاس 2500کے لگ بھگ بلاسٹک میزائل موجود ہیں۔ ایران روزانہ مختلف لہروں میں سو کے لگ بھگ میزائل فائر کرتا ہے۔ اس مسلسل گولہ باری کا بنیادی مقصد اسرائیل کے جدید دفاعی نظام 'آئرن ڈوم' اور 'ایرو' (Arrow) کو تھکانا اور ان کے مہنگے انٹرسیپٹرز کو ضائع کروانا ہے۔


دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ایک کلیدی نکتہ ہے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ موجود بھی ہو، لیکن انہیں لانچ کرنے والی متحرک گاڑیاں (Launchers)

 تباہ ہو جائیں، تو حملوں کی شدت میں خود بخود کمی آ جائے گی۔ ایسی صورت میں جنگ طول تو پکڑ سکتی ہے لیکن اس کی تباہ کن قوت برقرار رکھنا ایران کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔


بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران ماہانہ درجنوں 

(70 سے 100)

 نئے میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ مسلسل اپنی پیداواری صلاحیت کو درجنوں سے سینکڑوں پہ لے جانا چاہتا ہے تاکہ 2027 تک میزائلز کا ذخیرہ 8000تک کر سکے۔ 


اس  نے میزائل ساز فیکٹریاں زمین دوز کر رکھی ہے۔ لیکن موجودہ جنگی صورتحال، دشمن کے حملوں اور خام مال کی عدم دستیابی کے سبب موجودہ پیداواری صلاحیت  میں کمی آنے کا قوی امکان ہے۔


عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران حملوں کی موجودہ شدت کو مزید تین ہفتوں تک برقرار رکھ سکتا ہے، جس کے بعد اسے اپنے حتمی دفاع کے لیے میزائل بچانے ہوں گے۔ کسی بیرونی ذریعے سے اسٹاک کی فوری واپسی

 (Refill)

 اس وقت ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ موجودہ عالمی تناؤ میں کوئی بھی ملک کھل کر ایران کو تیار میزائل فراہم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے گا۔


ایران نے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ معاشی محاذ بھی کھول رکھا ہے۔ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ یہ امریکہ پر دباؤ ڈالنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اگر ایران جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو امریکہ کے لئے بھی اسے جاری رکھنا روز بروز مشکل تر ہوتا جائے گا۔


ایران کو اس پیچیدہ صورتحال سے نکلنے کے لئے نہایت بیدار مغزی سے اپنی چالیں چلنی ہوں گی تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھ ی بھی نہ ٹوٹے۔


1 ۔ایران کو اپنا سفارتی محاذ ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنا ہوگا تاکہ ان عرب ممالک کے خدشات کو دور کیا جا سکے جہاں امریکی اڈے نشانہ بنے ہیں۔ ایران کی کوشش ہوگی کہ وہ ان ممالک کو یہ باور کرائے کہ یہ حملے ان ریاستوں کے خلاف نہیں، محض امریکہ تنصیبات کے خلاف ہیں۔ ایرانی ڈرون اور میزائل بہت سستے ہیں جبکہ ان کو روکنے والے امریکی میزائل بہت مہنگے ہیں۔ اگر ایرانی حملے ایسے ہی جاری رہے تو یہ ختم ہو سکتے ہیں جس کے بعد ان ممالک کی تنصیبات براہ راست ایرانی میزائلوں کے زد میں ہوں گی۔


ایران کو انہیں باور کرانا ہو گا کہ امریکہ کے مہنگے ترین دفاعی میزائل 

(Interceptors)

 ایران کے سستے ڈرونز اور میزائلوں کی کثیر تعداد کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں، لہٰذا امریکہ ان کے تحفظ کی طویل مدتی ضمانت نہیں دے سکتا۔  اس بیانیے کے ذریعے ایران یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ خطے کا امن بیرونی طاقتوں کے بجائے علاقائی اتحاد میں ہے، اور وہ خود کو ایک متبادل سکیورٹی پارٹنر کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔


تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ایران کی یہ سفارتی پیشکش فی الوقت ایک تضاد کا شکار ہے، کیونکہ اس کی میزائل برتری نے عرب ممالک کو اپنا ہمنوا بنانے کے بجائے انہیں دفاعی طور پر اسرائیل کے مزید قریب دھکیل دیا ہے۔ یہ ممالک اب ایران کو ایک ممکنہ شراکت دار کے بجائے ایک "مستقل خطرہ" کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور عالمی سطح پر تہران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔ لہٰذا، ایران کی اس سفارت کاری کا حقیقی مقصد ان ممالک سے دوستی نہیں، بلکہ اس دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے دشمن کے کیمپ میں دراڑ ڈالنا اور مغربی جارحیت کو محدود کرنا ہونا چاہیئے۔


۔اپنی اصل طاقت پراکسیز کو فعال کرنا ہو گا۔ لبنان میں حزب یا یمن میں ہوثی یا عراق، شام، بحرین، کویت میں اپنی پراکیسز کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف فعال کر سکتا ہے۔ حوثی تو سمندر میں بھی بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی مدد سے ایران ایک کثیر الجہتی محاذ کھول سکتا ہے۔ ایران نے اپنی پراکسیز کو بہت سستے ڈرون اور راکٹ دے رکھے ہیں جنہیں تباہ کرنے کی ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے۔ ان کے استعمال سے ایران ایک تو براہ راست ذمہ داری سے بچ سکتا ہے دوسرا مخالفین کے لئے جنگ کو اتنا مہنگا کر سکتا ہے ان کے لئے جنگ جاری رکھنا معاشی طور پر مشکل ہو جائے۔



‏3 

۔نفسیاتی محاذ کو فعال کرنا ہو گا۔ ایران کو ایسی ویڈیوز جاری کرنی چاہئیں جو دشمن کے دفاعی نظام کی ناکامی ظاہر کریں۔ چاہے نقصان کم ہی ہو، نفسیاتی برتری حاصل کرنا یہ تاثر دیتا ہے کہ ایران ناقابل شکست ہے۔


4

 ۔ نپی تلی جوابی کاروائی کرے۔ دشمن کی فوحی لحاظ سے اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے۔ عام لوگوں کو نشانہ بنانے سے حتی الوسع اجتناب کرے۔ جنگ میں اخلاقی برتری قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ سول ہلاکتوں کے سبب دوست ممالک بھی مذمت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔


۔روس اور چین کا کردار بہت اہم ہے۔ روس ایران کو میزائل بنانے کے لئے الیکٹرانک چپس اور گائیڈڈ سسٹم مہیا کر رہا ہے جو مغربی پابندیوں کے سبب ایران کو حاصل نہیں تھیں۔ چین کے مفادات عرب ممالک اور ایران دونوں سے جڑے ہوئے ہیں اس لئے وہ بہت محتاط ہو کر چل رہا ہے۔ ایک طرف ایران کو سیٹلائیٹ ڈیٹا فراہم کر رہا ہے تا کہ ایران کے میزائل درست نشانے پر لگیں دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یقین دلا رہا ہے کہ وہ ایران کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کا اصل ہدف امریکہ کی عالمی ساکھ کو زک پہنچانا ہے لیکن وہ تیل کی سپلائی کو بھی جاری رکھنا چاہتا ہے ورنہ اس کی اپنی معیشت ڈوب جائے گی۔


روس اور چین دونوں مل کر ایران کو ایک پراکسی کی طرح استعمال کر رہے ہیں تا کہ امریکہ کو تھکایا جا سکے، ساتھ ساتھ وہ ایران کو بھی جنگ اُس سطح پر لیجانے سے روک رہے ہیں جس میں وہ نیوکلائی ہتھیار استعمال کرے۔ ایسا کرنے سے روس اور چین کو خود بہت بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ عالمی منظر نامے میں ایٹمی جنگ کسی کے حق میں نہیں ہے۔


6-

 ایران کے لئے اندرونی سیاسی و معاشی صورتحال کو مستحکم رکھنا بہت ضروری ہے۔ اپنے عوام کو متحد رکھنا بہت ضروری ہے۔ اپنی صفوں میں اُن غداروں کو سرعام سزائیں دینی ہوں گی جن کی وجہ سے ان کا دفاعی کمپرومائز ہو۔ اس سے دشمن کو یہ پیغام جائے گا کہ وہ حملوں سے شکست کھانے والا نہیں ہے اور بطور قوم متحد اورمضبوط ہے۔ 


ایران اس وقت ایک ایسی دو دھاری تلوار پر چل رہا ہے جہاں اس کا ہر میزائل اگر ایک طرف دشمن کی دفاعی صلاحیت کو جانچ رہا ہے تو دوسری طرف اس کے اپنے سفارتی مستقبل کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ ایران کے لیے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے میزائل فائر کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس عسکری قوت کو سیاسی سودے بازی میں کیسے بدلتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جدید جنگیں اب اعصاب کی شطرنج پر لڑی جاتی ہیں۔ اگر تہران اپنی چالیں درست رکھتا ہے تو وہ ایک بڑی تباہی سے بچ کر مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی حقیقت بن کر ابھر سکتا ہے، ورنہ یہ طویل جنگ اسے ایسی عالمی تنہائی اور معاشی بدحالی کی طرف لے جا سکتی ہے جس سے نکلنا دہائیوں تک ممکن نہ ہوگا۔



Comments