میری بیٹی نے سائیکولوجی میں ڈگری لی ہے۔ وہ کبھی کبھی اس سے متعلق مضامین مجھ سے شئیر کرتی رہتی ہے۔ کل اس نے ویب سائٹ سائی پوسٹ کا ایک مضمون شئیر کیا جو میرے خیال میں عام لوگوں کی دلچسپی کا بھی ہے۔
Mubashir Zaidi
مضمون کا عنوان ہے: دماغ کا اسکین کرنے سے پتا چلا کہ مختصر ویڈیوز یادداشت کو کیسے متاثر کررہی ہیں؟
آج کل لوگ زیادہ تر مختصر ویڈیوز دیکھتے ہیں، جیسے ٹک ٹاک یا انسٹاگرام کی ریلز۔ تحقیق سے پتا چلا کہ جب ہم ایک مکمل اور مسلسل ویڈیو دیکھتے ہیں تو ہمارا دماغ معلومات کو بہتر طریقے سے سمجھتا اور یاد رکھتا ہے۔ لیکن جب ہم چھوٹی چھوٹی اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو ہماری یادداشت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چند سیکنڈ بعد موضوع بدل جاتا ہے جس سے دماغ کو معلومات جوڑنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل ویڈیو دیکھنے سے دماغ ایک کہانی کی صورت میں معلومات کو محفوظ کرتا ہے۔ اس کے برعکس مختصر ویڈیوز میں ہر کلپ الگ ہوتا ہے اس لیے دماغ ان کو ایک مکمل تصویر میں تبدیل نہیں کرپاتا۔ اسی لیے لوگ بعد میں اس معلومات کو آسانی سے یاد نہیں رکھ پاتے۔
اس تحقیق میں 57 طلبہ کو شامل کیا گیا۔ ایک گروپ کو 10 منٹ کی مکمل ویڈیو دکھائی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو اسی معلومات پر مبنی کئی مختصر ویڈیوز دکھائی گئیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مکمل ویڈیو دیکھنے والے طلبہ کے زیادہ جواب درست تھے جبکہ مختصر ویڈیوز دیکھنے والوں نے زیادہ غلطیاں کیں۔
تحقیق کے دوران دماغ کے اسکین بھی کیے گئے۔ ان اسکینز سے معلوم ہوا کہ مختصر ویڈیوز دیکھنے والوں کے دماغ کے کچھ اہم حصے کم فعال تھے۔ یہ حصے توجہ، یادداشت اور معلومات کو جوڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب یہ حصے کمزور طریقے سے کام کرتے ہیں تو انسان کو چیزیں یاد رکھنے اور سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ جو لوگ مختصر ویڈیوز زیادہ دیکھتے ہیں، ان میں خود پر قابو رکھنے کی صلاحیت کم ہوسکتی ہے۔ ایسے لوگوں کو معلومات یاد کرنے کے لیے زیادہ دماغی محنت کرنا پڑتی ہے۔ یعنی ان کا دماغ زیادہ تھک جاتا ہے لیکن نتیجہ پھر بھی کمزور رہتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ مختصر ویڈیوز وقتی طور پر دلچسپ اور آسان لگتی ہیں لیکن وہ ہماری یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرسکتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں مکمل اور مسلسل مواد دیکھنا یا پڑھنا دماغ کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.