امریکی-ایرانی جوہری مذاکرات: ڈرور بلازادہ کا انکشاف، ممکنہ سمجھوتے اور بڑے خلا
ڈرور بلازادہ، اسرائیلی چینل 14 کے ایران نمائندے نے ایک اہم ٹویٹ میں اندرونی ذرائع کے حوالے سے امریکی اور ایرانی جوہری مذاکرات کی تازہ صورتحال کا انکشاف کیا ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے ذریعے سے حاصل کی گئی ہے جو اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کے قریب بتایا جاتا ہے۔ یہ معلومات اس وقت سامنے آئی ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے، لیکن اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں۔ممکنہ سمجھوتوں (Understandings) کی تفصیلات:ڈرور بلازادہ کے مطابق، کچھ معاملات پر بنیادی طور پر سمجھ بوت ہو چکی ہے:
- 60 فیصد افزودہ یورینیم: ایران اسے پتلا کرنے (dilution) یا ہٹانے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم، یہ ابھی تک موجتبیٰ خمینی (سپریم لیڈر علی خمینی کے بیٹے) کی منظوری کا منتظر ہے۔
- پراکسیز (ہیزب اللہ، حوثی، دیگر ملیشیا): ایران انہیں ہتھیار فراہم نہیں کرے گا۔ صرف مالی اور انسانی امداد تک محدود رہے گا۔
- بالیسٹک میزائل پروگرام: یہ موضوع ابھی گہرائی سے زیر بحث نہیں آیا، لیکن ذرائع کا اندازہ ہے کہ اس پر کوئی حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
- افزودگی کا مسئلہ: یہ مرکزی مسئلہ ہے۔ اگر اس پر حل نکل آیا تو باقی تمام مسائل آسانی سے حل ہو سکتے ہیں۔
- ایرانی سرزمین پر صفر افزودگی (zero enrichment) کا مطالبہ۔
- تمام افزودگی کی سائٹس اور سنٹرفیوجز کی مکمل تباہی۔
- سنٹرفیوجز کی تحقیق و ترقی (R&D) پر مکمل پابندی۔
- منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی اور پابندیوں میں نرمی پر بنیادی سمجھ بوت ہو چکی ہے۔
- یہ عمل مرحلہ وار (phased) ہو گا اور ایران کی تعمیل سے مشروط رہے گا۔
- تاہم، عملی طور پر اب بھی بڑے خلا موجود ہیں۔
- عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالیباف معاہدے کے حامی ہیں۔
- حتمی فیصلہ IRGC کمانڈر کے پاس ہے (اس رپورٹ کے مطابق موجتبیٰ خمینی کا براہ راست کردار نہیں بتایا گیا)۔
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.