اپنی مٹی، اپنا انٹرنیٹ!
.ایران کے ڈیجیٹل انقلاب کی وہ داستان جو تاریخ بدل رہی ہے
روس اور چین کے بعد ایران وہ تیسری قوت ہے جس نے ڈیجیٹل سامراج کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔
جب تک ڈیٹا غیر ملکی سرورز پر ہے آزادی ادھوری ہے، اور ایران نے اس زنجیر کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا ہے۔
ایران کا اپنا انٹرنیٹ سسٹم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب کسی بھی قسم کی عالمی ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوگا
ایران میں وٹس ایپ کے متبادل کے طور سروش ایپ ہے ۔
دوسری متبادل بلہ ایپ ایک میسنجر ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بینکنگ ٹرانزیکشنز اور پیسے بھیجنے کی سہولت بھی موجود ہے۔
اور روبیکا ایپ میسجنگ سمیت سوشل میڈیا اور فلمیں دیکھنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔
ٹیلی گرام کے طرز پر مقامی ایپ ایتا کافی مقبول ہے ۔
یو ٹیوب کے متبادل کے طور پر مقامی اپارات بنایا گیا ہے ۔
نیٹ فلیکس کا متبادل فیلیمو موجود ہے
امریکی ہے پال کا متبادل آسان پرداخت ایپ ہے ۔
یہ ایک ڈیجیٹل والٹ اور پیمنٹ ایپ ہے۔ اس سے بلوں کی ادائیگی، موبائل ٹاپ اپ اور ٹرین و جہاز کے ٹکٹ بک کیے جاتے ہیں۔
امریکہ میں Craigslist اور Facebook Marketplace سب سے بڑے نام ہیں، لیکن ایران نے Divar بنا کر ان دونوں کا مقابلہ اپنے ملک کے اندر ہی ختم کر دیا ہے
فیس بک اور انسٹاگرام کے متبادل پر فیس نما اور ویرگول موجود ہے ۔
گوگل سرچ انجن کا متبادل پارسی جو اور یوز سرچ انجن ہے ۔
اوبر کا متبادل اسنیپ اور تپسی ایپ ہے ۔
اسنیپ کے ذریعے نہ صرف گاڑی بلکہ موٹر سائیکل، کھانا منگوانے اور کورئیر کی سہولت بھی ملتی ہے۔
ایمازون کا ایرانی ورژن دیجی کالا آن لائن شاپنگ کیلئے استعمال ہوتا ہے ۔
ایران کی سب سے بڑی آن لائن شاپنگ ویب سائٹ اور ایپ ہے۔ الیکٹرانکس سے لے کر گھر کے راشن تک، سب کچھ یہاں دستیاب ہے۔
گوگل پلے اسٹور کا متبادل کافے بازار موجود ہے ۔
آپ کی پرائیویسی ان امریکی سوشل کمپنیوں کا منافع ہے۔
انکا الگورتھم آپ کی سوچ کو ڈیزائن کرتے ہیں۔
یہ ایپس امریکی سامراج کا سافٹ پاور ہتھیار ہیں جو دوسرے ممالک میں حکومتیں گرانے یا بغاوتیں پھیلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔
ایڈورڈ سنوڈن سابق انٹیلی جنس اہلکار کا موقف ہے کہ فیس بک اور گوگل درحقیقت امریکی حکومت کے لیے جاسوسی کے مراکز ہیں۔
ایوگینی موزوزوف مشہور تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ سلیکون ویلی نے دنیا کو ایک نئے جاگیردارانہ نظام میں دھکیل دیا ہے جہاں گوگل اور فیس بک ڈیجیٹل جاگیردار ہیں اور ہم ان کے مزارع ہیں جو اپنا ڈیٹا انہیں مفت فراہم کر رہے ہیں۔
ایران نے دنیا کو ایک دوسرا راستہ دکھا دیا ہے، ایک ایسا راستہ جو نہ مغرب کی اندھی تقلید ہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی سے دوری، بلکہ یہ ٹیکنالوجی کے ذریعے خودداری کا راستہ ہے۔
ایران نے ثابت کیا کہ ڈیٹا محض معلومات نہیں، بلکہ جدید دور کا ایندھن ہے۔ جہاں باقی دنیا کا ڈیٹا امریکی سرورز میں محفوظ ہو کر ان کی جاسوسی کا آلہ بنتا ہے، وہاں ایران کا ڈیٹا اس کی اپنی مٹی میں دفن ہے۔ سروش سے لے کر اپارات تک، ہر کلک اور ہر پیغام ایران کی اپنی حدود میں رہتا ہے،
جہاں کسی بیرونی طاقت کی رسائی ممکن نہیں۔
آزاد خیال پختون
تجزیوں ، تاریخ اور نتائج کیلئے ہمارے ساتھ یہاں جڑے رہیئے ۔
اور نئ تازہ ترین اپڈیٹس کیلئے ہمارے بیک اپ اکاؤنٹ آزاد خیال پختون ثانی پر ہمارے ساتھ جڑے رہیئے ۔
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.