سوشلسٹ حکومت کے خلاف بغاوت فورئ نہیں ہوئی جب خلق وپرچم وجود میں آئے تو یونیورسٹی میں اس کے تدارک کیلئے نوجوانان مسلمانان کے نام سے حبیب اللہ نیازی ڈاکٹر عمر عبدالقادر توانا گلبدین حکمتیار جیسے سٹوڈنٹ آور شریعت فیکلٹی کے پروفیسر برہان الدین ربانی عبدالرسول سیاف جو بعد میں عبد الرب رسول سیاف بنا۔
جبکہ تحریکی مواد منہاج الدین گیح جو گیح نامی اخبار کے مدیر اعلی تھے کے ذریعے مودودی اور حسن البنا کے تحاریر پشتو درئ میں ترجمہ کرکے مہیا کیا گیا یہ ظاہر شاہ کا آخری دور تھا بعد میں داود خان حکومت کے خلاف مسلح مذاہمت شروع ہوئی تھئ جس کی ابتداء ڈاکٹر عمر نے پنج شیر سے کئ ترہ کئی دور میں امین نے کنڑ میں قتل عام کیا جس میں تین ہزار مرد قتل کیے گئے جوابا شیخ جمیل الرحمن کی سربراہی میں کنڑ سے سوشلسٹ انقلابی رجیم کے خلاف بغاوت کی ابتداء ہوئیدسمبر 1979 میں سوویت یونین نے اسی ہزار فوج کے ساتھ افغانستان پر چڑھائی کی کابل پر قبضہ کیا اور حفیظ اللہ امین کو مار کر ببرک کارمل کو حکومت دی روس کا مقصد گرم پانیوں تک پہنچنا تھا اس کا اگلا نشانہ پاکستان کا صوبہ بلوچستان تھا تاکہ بحیرہ عرب تک راستہ بنے
25 دسمبر 1979 کی رات کو جنرل ضیاء الحق کو خبر ملی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمن خان نے نقشہ رکھا اور کہا اگر آج نہ روکا تو کل جنگ لاہور میں ہوگی اس وقت پاکستان کے پاس تین راستے تھے پہلا روس سے معاہدہ کر لے پر روس بلوچستان کا حصہ مانگ رہا تھا دوسرا اکیلا لڑے پر فوج اور معیشت کمزور تھی تیسرا امریکہ سے مدد لے پر امریکہ بھٹو کی پھانسی کے بعد ناراض تھا
لیکن
فیصلہ ہوا کہ جنگ لڑی جائے گی لیکن پاکستانی فوجی وردی میں نہیں لڑے گا امریکہ سے پیسہ اور ہتھیار لیے جائیں گے لیکن امریکہ کا نام نہیں آئے گا لڑائی افغان سرزمین پر ہوگی خون افغانوں کا بہے گا فائدہ پاکستان کو
ہوگا اس پالیسی کو اندرونی کاغذوں میںبقواعدِ احتیاط کہا گیا
جنوری 1980 میں امریکی خفیہ ادارے کے سربراہ ولیم کیسی خفیہ طور پر اسلام آباد آئے ملاقات ایوان صدر کے تہہ خانے میں ہوئی ضیاء الحق نے کہا آپ ڈالر اور ہتھیار دو ہم تربیت اور بندے دیں گے دنیا کو پتا بھی نہیں چلے گا ولیم کیسی نے حامی بھری اور آپریشن سائیکلون شروع ہوا یہ امریکہ کی تاریخ کا سب سے بڑا خفیہ خرچہ تھا
پشاور کو مکمل خفیہ شہر بنا دیا گیا حیات آباد اور یونیورسٹی ٹاؤن میں دو سو سے زیادہ دفتر کھولے گئے ہر دفتر کا نام کسی فلاحی تنظیم کا تھا اندر اسلحہ اور ڈالر تھے شہر کی سڑکوں کے خفیہ نام رکھے گئے گلبہار کو روٹ ریڈ صدر بازار کو روٹ گرین کہا جاتا تھا بدھ بیر ہوائی اڈے کو امریکہ نے دوبارہ فعال کیا یہاں سے جاسوس طیارے روس کے اوپر جاتے تھے
جنرل اختر عبدالرحمن آئی ایس آئی کا سربراہ پورے منصوبے کا دماغ تھا 1988 میں طیارہ حادثے میں مارا گیا
بریگیڈیئر محمد یوسف افغان شعبے کا انچارج اس نے کتاب ریچھ کا پھندا لکھی اس نے سٹنگر میزائل کا پورا نظام بنایا
کرنل سلطان امیر ترار جس کو کرنل امام کہتے تھے وہ داڑھی رکھ کر مجاہدین کے ساتھ رہتا تھا اس نے گلبدین حکمت یار کو تیار کیا اور بعد میں طالبان کا مشیر بنا
پشاور میں سات بڑے افغان گروپوں کو دفتر دیے گئے سب سے طاقتور گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی تھی اس کو سب سے زیادہ ہتھیار ملتے تھے کیونکہ وہ پاکستان کا وفادار تھا دوسرا بڑا گروپ برہان الدین ربانی کی جمعیت اسلامی تھا تیسرا عبدرب الرسول سیاف کا اتحاد اسلامی تھا جو عرب ملکوں سے چندہ لاتا تھا چوتھا جلال الدین حقانی کا گروپ تھا جو خوست میں لڑتا تھا
شہزادہ ترکی الفیصل سعودی خفیہ ادارے کا سربراہ 1980 میں پاکستان آیا اس نے وعدہ کیا سی آئی اے جتنا ڈالر دے گی سعودی عرب اتنا ہی دے گا اس پیسے کے لیے سوئس بینک میں خفیہ کھاتہ کھولا گیا اسی پیسے سے پاکستان میں مدرسے بنے اساتذہ کو تنخواہ ملی اور مجاہدین کو ماہانہ وظیفہ ملا جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کو خاص فنڈ ملا جہاں سے بعد میں ملا محمد عمر جیسے لوگ نکلے
1982 میں روس نے خفیہ پیغام بھیجا کہ ہم افغانستان سے نکل جاتے ہیں بدلے میں پاکستان امریکہ کا ساتھ چھوڑ دے اور ہمیں بلوچستان میں اڈہ دے ضیاء الحق نے انکار کر دیا کیونکہ آئی ایس آئی کا مقصد روس کو توڑنا تھا صرف نکالنا نہیں تھا
3 مارچ 1980 کو پہلا باقاعدہ حملہ ہوا بیس مجاہدین نے درہ خیبر کے پاس طورخم پر روسی رسد کے قافلے پر گھات لگائی سات ٹرک تباہ کیے ہتھیار پاکستانی تھے تربیت پاکستانی تھی لیکن دنیا کو کہا گیا کہ یہ مقامی قبائلی ہیں اس حکمت عملی کو دنیا کی نظر میں جھٹلانا کہتے ہیں یعنی کام کرو اور الزام نہ لو
یہ داستان بہت لمبی ہے پوری ایک پوسٹ میں نہیں بتا سکتا اس لیے اس پر کچھ اور پوسٹ کروں گا وہ ضرور دیکھنا اور یہ ساری باتیں سچی ہیں لیکن بس میں نے اپنے انداز میں لکھی ہیں تو Part 2 اگلی پوسٹ میں شیئر کروں گا ضرور پڑھنا ساری داستان کو ایسے سمجھاؤں گا کہ ہر سوال کا جواب مل جائے گا لیکن جب ساری داستان پڑھو گے تب ۔۔ابھی نہیں
تو جاری ہے۔۔
Faisal Faran.
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.