Skip to main content

Afghan files. Urdu Summery. Copied

 سویت افغان جنگ کے دوران سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی، جی ائی ڈی کے سربراہ رہنے والے پرنس ترکی الفیصل اپنی کتاب "دی افغان فائل" میں لکھتے ہے کہ جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کرلیا تو پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے کچھ دنوں بعد آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمان کو مجاہدین کےلئے مالی اور عسکری مدد حاصل کرنے کےلئے ریاض بھیجا۔ جنرل اختر نے ریاض میں دو دن گزارے، بادشاہ شاہ خالد اور ولی عہد شاہ فہد سے ملاقات کی اور ہم نے فوراً مدد دینے کا فیصلہ کیا۔


پرنس ترکی الفیصل مزید رقمطراز ہے کہ جنرل اختر کے ریاض سے واپس جانے کے دو دن بعد میں نے اپنے چیف آف سٹاف احمد بدیب کو دو صندوقوں میں دو ملین ڈالرز نقد لئے ہوئے اسلام آباد  بھیجا۔ یہ رقم 100 کے نوٹوں میں تھی، کل 20,000 نوٹ۔ رقم کو نقد بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ شروع سے ہم، پاکستانی اور امریکن یہ نہیں چاہتے تھے کہ افغان مجاہدین کےلئے ہماری امداد کا سراغ لگایا جاسکے۔ اور تمام 100 کے نوٹ بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم سب کو معلوم تھا کہ 100 کے نوٹ مجاہدین کےلئے خاص کشش رکھتی تھی۔


کتاب میں مزید لکھا ہے کہ احمد بدیب ڈالرز سے بھرے صندوقوں کو پکڑے سیدھا صدر مملکت کی رہائش گئے، جہاں ان کی ملاقات جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبد الرحمان سے ہوئی اور جنرل ضیاء نے دونوں کو ہدایت کی کہ وہ جنرل اختر کے گھر جائیں اور رقم گن کے پوری کرے۔ احمد بدیب اُسی طیارے پر واپسی کا ارادے رکھتے تھے جن پر آئے تھے لیکن رقم کی گنتی میں فلائیٹ کا وقت ہی گزر گیا۔ اسی موقع پر انہیں معلوم ہوا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمان نے اُن کےلئے پرواز مؤخر کروادی ہے۔ انہیں مسافروں پر ترس آیا اور اخلاقی نزاکت کے پیش نظر انہوں نے یہ بات جنرل اختر کو کہہ بھی دی۔ جنرل اختر نے مسکرا کر جواب دیا : "فکر نہ کریں، پاکستانی سب کے سب افغان جہاد کے حامی ہیں اور اگر انہیں معلوم ہو جائیں کہ ان کی پرواز آپ اور آپ کی امداد کی خاطر تاخیر کا شکار ہوئی ہے تو وہ یقیناً خوش ہیں ہونگے".


جنرل اختر عبدالرحمان  آٹھ سال تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے اور 17 اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ہوائی جہاز میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ایک سابق رہنماء اور بزنس ٹائیکون جہانگیر خان ترین کی والدہ زاہدہ خان ترین اور جنرل اختر عبدالرحمان آپس میں بہن بھائی تھے۔ پی ٹی آئی کے دور میں پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رہنے والے سبطین خان جنرل اختر عبدالرحمان  کے بیٹے ہمایون اختر خان کی بیوی کے چچا ہے جبکہ جیو نیوز کے بانی اور میڈیا ٹائیکون میر شکیل الرحمان ہمایون اختر خان کے بیٹے کے سسر ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں وزیر خزانہ رہنے والے شوکت ترین اور جہانگیر خان ترین آپس میں کزن ہے۔


جنرل اختر کے دو بیٹے پاکستانی سیاست اور کاروباری مارکیٹ پر ہر دور میں چھائے ہوتے ہیں۔ ہمایون اختر خان، جنرل اختر کا بیٹا ہے جو پاکستان کے مایا ناز کاروباری شخصیت اور سیاستدان ہے۔ چار دفعہ  مسلسل قومی اسمبلی کا ممبر اور دو دفعہ وزیر رہ چکے ہے۔ اسٹیبلیشمنٹ نے جب پی ٹی آئی کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالا تو ہمایون اختر خان بھی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے اور عمران خان کے بہت قریب تھے۔ جنرل اختر عبد الرحمان کا دوسرا بیٹا ہارون اختر خان بھی ایک بڑے کاروباری شخصیت اور سیاستدان ہے جو اس وقت وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر بھی ہے۔ یہی صورتحال جنرل ضیاء الحق کے بیٹے اعجاز الحق کا بھی ہوتا ہے، ہر دور میں وزیر اور ممبر قومی اسمبلی ہوتا ہے۔


پشتون سرزمین پر جہاد کے نام پر فساد برپا کرنے والوں کی اپنی اولادیں آج کل اربوں روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں اور پاکستان کے سیاہ و سفید کے فیصلے کرنے میں آج بھی اہم کردار ادا کررہے ہیں لیکن جہاد کے نام پر مرا بھی غریب پشتون تھا اور ابھی بھی مررہا ہے۔ جرنیلوں، سیاستدانوں، این جی اوز کی آنٹیوں، پشتون ٹھیکیداروں اور اشرافیہ نے جتنا کالا پیسہ پچھلے چالیس سالوں میں بنایا ہے اتنا ہم سوچ بھی نہیں سکتے لیکن پشتون سرزمین کو مذہبی انتہا پسندی اور دہشتگردی کے نام پر تباہ کرنے کے بعد بھی مستقبل میں بھی کوئی امن و شانتی نظر نہیں آرہی۔ اسلام اور انقلابی سیاسی نعروں پر آج بھی ہشتونوں کو بے وقوف بنایا جارہا ہیں۔ مذہب اور خلافت کے نام پر بوتل سے نکالے جن کو واپس بوتل میں بند کرنے کا کلیہ کسی کے پاس فالحال موجود نہیں ہ

Comments