# ثور انقلاب: قسط 5 —
ڈاکٹر نجیب اللہ بطور خاد ایجنسی کے سربراہ
(1980 تو 1985)
ڈاکٹر نجیب اللہ کو خاد کا پہلا سربراہ منتخب کرنے کے پیچھے سوویت یونین کی گہری اسٹریٹجک، سیاسی اور ذاتی وجوہات تھیں۔ سوویت یونین کے نزدیک خاد کے تمام باقاعدہ اعلیٰ حکام کے لیے پرچمی ہونا اور پارٹی نظریات سے مخلص ہونا لازمی تھا تاکہ کابل میں سوویت مشن کے سیاسی و ریاستی مفادات کی وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے سوویت افواج کی آمد کے بعد پرچمیوں کے اس 'ایکٹیوسٹ' گروپ کی قیادت کی تھی جس نے 'کام سے انٹیلی جنس کے امور اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر بہا اور کے جی بی کے مشیروں کے ساتھ مل کر سوویت خفیہ ایجنسی کے طرز پر خاد کا کثیر الجہتی اور وسیع تنظیمی ڈھانچہ خود ڈیزائن کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس نظام کو چلانے کے لیے موزوں ترین انتخاب تھے۔
نجیب اللہ میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ چیکا کے بانی فیلکس دزیرژینسکی کے ان سخت گیر اور بے رحم جنگی اصولوں پر عملدرآمد کروا سکیں جہاں انصاف کے بجائے دشمن کا مکمل خاتمہ مقصود ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکری مزاحمت اور کابل کے اندرونی خلفشار کو دبانے کے لیے ایک انتہائی مضبوط، سخت گیر اور طاقتور شخصیت کی ضرورت تھی جو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپوزیشن نیٹ ورکس، قوم پرستوں اور ماؤ نوازوں کو کچلنے کے لیے وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس اور عسکری طاقت کا استعمال کر سکے۔ مزید برآں، وہ صدر ببرک کارمل کے انتہائی قابلِ اعتماد اور قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے، اس لیے کارمل حکومت اور سوویت یونین دونوں کے لیے نجیب اللہ پر تکیہ کرنا سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔
27 دسمبر 1979ء کو سوویت یونین کی سرخ فوج کے کابل پر حملے اور حفیظ اللہ امین کے قتل کے بعد، ببرک کارمل کو افغانستان کا نیا سربراہ بنایا گیا۔ کابل پر سوویت تسلط قائم ہوتے ہی روسی مشیروں اور کے جی بی کے چیف یوری آندروپوف کی لابی اور خصوصی سفارش کے نتیجے میں، 10 جنوری 1980ء کو ببرک کارمل نے ایک بالکل نئی انٹیلی جنس ایجنسی خاد تشکیل دی اور اس کا پہلا ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نجیب اللہ کو مقرر کر کے انہیں میجر جنرل کے رینک پر ترقی دے دی۔ یہیں سے ڈاکٹر نجیب اللہ کی زندگی کا وہ دور شروع ہوا جو کمیونسٹ انقلاب کے مخالفین کے حافظے پر خوف اور دہشت کی علامت بن کر نقش ہو گیا۔
خاد کے قیام سے پہلے، اپریل 1978ء کے انقلابِ ثور کے بعد نور محمد ترکئی نے پہلی انٹیلی جنس ایجنسی ’اگسا‘ (د افغانستان د ګټو د ساتنې اداره) قائم کی تھی جس کا سربراہ اسد اللہ سروری تھا۔ ستمبر 1979ء میں جب حفیظ اللہ امین نے ترکئی کی موت کے بعد اقتدار سنبھالا، تو اس نے اگسا کا نام بدل کر ’کام‘ (کمیٹی امنیت ملی) رکھ دیا۔اور اپنے داماد آمین اللہ کو سربراہ بنایا ، یہ دونوں ایجنسیاں پیشہ ورانہ نیٹ ورکس کے بجائے حکمرانوں کے ذاتی ڈیتھ اسکواڈز کے طور پر کام کرتی تھیں، جو راتوں رات مخالفین کو اٹھا کر بغیر کسی تفتیش کے ختم کر دیتی اور نامعلوم مقامات پر دفن کر دیتی تھیں۔ اس کے نتیجے میں یہ دونوں ایجنسیاں عوامی مزاحمت کو روکنے میں ناکام رہیں۔
بڑھتی ہوئی گوریلا مزاحمت کو کچلنے اور شہروں میں خفیہ نیٹ ورکس کو اکھاڑنے کے لیے روس کو کے جی بی کی طرز پر ایک سائنسی اور منظم ایجنسی کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ڈاکٹر نجیب اللہ کا انتخاب کیا، جو کابل یونیورسٹی کے دور سے ہی ایک سخت گیر اور جارح مزاج پرچمی رہنما تھے۔
1982ء کے بعد ڈاکٹر نجیب اللہ کے تحت خاد کا ڈھانچہ انتہائی وسیع کر دیا گیا اور اسے درج ذیل مرکزی ڈائریکٹوریٹس میں تقسیم کیا گیا
ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس: یہ خاد کے وسیع بجٹ کی تقسیم، تنخواہوں کی ادائیگی اور اندرونی انتظامی امور کا ذمہ دار تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف کیڈر / پرسنل: نئے پرچمی ارکان کی بھرتی، ان کے سیاسی پسِ منظر کی جانچ اور تعیناتی کا کام کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف انٹروگیشن: قیدیوں سے اعترافِ جرم کروانے اور ان سے دیگر نیٹ ورکس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر تفتیش اور عقوبت کا ذمہ دار تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس اینڈ افغان ڈپلومیٹک مشنز ابراڈ: بیرونِ ملک افغان سفارت خانوں اور تجارتی دفاتر میں تعینات افغان شہریوں اور سفارت کاروں کی جاسوسی کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ اینڈ پارسل: ملک کے اندر اور باہر آنے جانے والی ڈاک، خطوط اور پارسلز کی سنسرشپ اور تلاشی کا کام کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار اپریٹو ایکٹیویٹیز فار انٹرنل کنٹرول: یہ خاد کا اپنا اندرونی جاسوسی ونگ تھا جو خود خاد کے اہلکاروں اور ان کی وفاداری کی مانیٹرنگ کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار اکانومی اینڈ اینٹی کرپشن: معاشی جرائم کی آڑ میں تاجروں اور کاروباری طبقات کی نگرانی اور ان کے سرمائے پر نظر رکھتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار کاؤنٹر-ریبلین (انسدادِ بغاوت) یہ خاد کا سب سے بڑا عسکری ونگ تھا جس کے پاس اپنے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر تھے۔ اس کے تحت دو سب-ڈائریکٹوریٹس تھیں جو بالترتیب 14، 14 صوبوں میں مزاحمت کاروں کے خلاف عسکری کارروائیوں کو سنبھالتی تھیں۔ اسے 'خاد نمبر 5' بھی کہا جاتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار سرویلنس آف فارن اینڈ نیشنل سسپیکٹس: غیر ملکیوں اور ملک کے اندر مشکوک قوم پرست یا سیاسی افراد کی کڑی نگرانی کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف پریس اینڈ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز: کابل یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں اسٹوڈنٹ کارڈز کے ذریعے جعلی طالب علم داخل کر کے اساتذہ اور طلبہ کی جاسوسی کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار دی پروٹیکشن آف دی گورنمنٹ اینڈ اٹس ریپریزنٹیٹوز: سرکاری عمارات، وزراء اور اہم حکومتی شخصیات کی حفاظت کا ذمہ دار تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف پروپیگنڈا اینڈ کاؤنٹر-پروپیگنڈا: حکومت کے حق میں سائنسی پروپیگنڈا پھیلانا اور مزاحمت کاروں کو 'اشرار' یا جابر ثابت کرنا اس کا کام تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف ٹیلی کمیونیکیشن اینڈ ڈی کوڈ: وائرلیس اور فون لائنز کی مانیٹرنگ سمیت خفیہ کوڈز کو ڈی کوڈ کرنے کا کام کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار ایکٹیویٹیز لنکڈ ٹو انفلٹریشن: اس کا بنیادی کام مزاحمت کاروں کی صفوں میں اپنے جاسوس اور کمانڈر داخل کر کے ان کے نیٹ ورکس کو اندر سے تباہ کرنا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ فار ایجنٹس انفارمرز: یہ کابل کی گلیوں، سرکاری محکموں، یوتھ آرگنائزیشنز اور ویمن آرگنائزیشنز میں موجود لاکھوں پارٹ ٹائم مخبروں کے نیٹ ورک کو مینیج کرتا تھا۔
ڈائریکٹوریٹ آف انالیسز اینڈ رپورٹنگ: تمام ذرائع سے آنے والی معلومات کا تجزیہ کر کے حتمی گرفتاریوں کے لیے لسٹیں تیار کرتا تھا۔
ملبری اور پولیس خاد: یہ بالترتیب وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ (سارندوی) کے اندر گھس کر وہاں موجود مشکوک افسران کی انسدادِ جاسوسی کرتے تھے۔
ہر صوبے میں خاد کا دفتر ایک چیف افسر اور دو یا تین ڈپٹی افسران چلاتے تھے جو شہری، دیہی اور انسدادِ بغاوت کے امور کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ peak دور میں ہر صوبے میں خاد کے 1,000 کے قریب باقاعدہ اہلکار موجود تھے۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور میں خاد آزاد نہیں تھی بلکہ یہ کے جی بی کے مکمل تسلط میں تھی۔ سوویت مشیر خاد کے تمام ڈائریکٹوریٹس کے اندر موجود ہوتے تھے اور کوئی بھی اہم فیصلہ ان کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ یہاں تک کہ سوویت مشیروں کے سامنے ببرک کارمل کے احکامات بھی بے اثر ہو جاتے تھے (جیسے 1983ء میں کارمل کے تحریری حکم کے باوجود خاد نے افغان ملت کے رہنماؤں اور کابل یونیورسٹی کے پروفیسرز کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا)۔
شروع کے نو مہینوں میں جیلوں کی سیکیورٹی براہِ راست سوویت فوجیوں کے پاس تھی۔ بعد میں، خاد کا انفلٹریشن ونگ جب مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں کی مخبری کرتا، تو کے جی بی کے خصوصی مشیر، خاد کے ملٹری بٹالینز اور سوویت فضائیہ مل کر کارپٹ بمباری اور ٹارگٹڈ عسکری کارروائیاں کرتے تھے۔
خاد کو مادی وسائل کی کوئی کمی نہیں تھی کیونکہ افغانی کرنسی نوٹ خود سوویت یونین میں چھپتے تھے اور وہاں سے براہِ راست فنڈز بھیجے جاتے تھے۔ نجیب اللہ کے دور میں خاد کا بجٹ 30 ارب افغانی تک پہنچ گیا تھا جو قبل از کمیونسٹ دور کے انٹیلی جنس بجٹ سے ایک ہزار گنا زیادہ تھا۔ خاد کے اہلکاروں کی بنیادی ٹرینینگ کابل کے مرکز میں ہوتی تھی۔ مڈل رینک افسران کو لازمی طور پر تاشقند بھیجا جاتا تھا جہاں انہیں تفتیش اور مجرمانہ تحقیقات سکھائی جاتی تھیں۔ اعلیٰ رینک کے افسران (کرنل اور اوپر) ماسکو میں پالیسی اور فنانس کی اعلیٰ تربیت حاصل کرتے تھے۔
نجیب اللہ کی کور ٹیم میں غلام فاروق یعقوبی (جو بعد میں واڈ کا سربراہ بنا)، ڈاکٹر بہا (تنظیمی ڈیزائنر) اور خاد کے ساتھ قریبی عسکری اشتراک رکھنے والے افغان نیشنل آرمی کے ملیشیا کمانڈرز جنرل رشید دوستم اور جنرل امان اللہ گیلم جم شامل تھے۔
نجیب اللہ کے دور میں خاد نے مروجہ تشدد کو ایک سائنسی نظام میں تبدیل کر دیا تھا جس کا بنیادی مقصد انسان کو نفسیاتی طور پر توڑنا تھا تاکہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے نام اگل دے۔ قیدیوں کو چھوٹے یا ہجوم سے بھرے خلیوں میں چوبیس گھنٹے شدید لائٹ بلبوں کے نیچے رکھا جاتا تھا۔ تفتیش کے دوران اکثر سوویت مشیر خود کمرے میں موجود ہوتے تھے۔ اس وحشیانہ تشدد کے دوران قیدی اکثر ہلاک ہو جاتے تھے، جیسے 1982ء میں مشہور شاعر اور صحافی غلام شاہ سرشار شمالی کو صدارت کے مرکز میں تفتیش کاروں نے لاتیں مار مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
ڈاکٹر نجیب نے کابل میں 8 بڑے تفتیشی مراکز قائم کر رکھے تھے:
1. خادِ صدارت: وزیرِ اعظم کی بلڈنگ میں قائم مرکزی تفتیشی دفتر اور مخفی عدالت۔
2. خادِ شش درک: شش درک ضلع کا بدنام ترین مرکز جہاں شدید ترین تشدد کیا جاتا تھا۔
3. خادِ پنج: دارالامان میں واقع ڈائریکٹوریٹ نمبر 5 کا ٹارچر سیل۔
4. خادِ نظام ملٹری خاد کا حراستی مرکز۔
5. احمد شاہ خان کا گھر: صدارت بلڈنگ کے قریب واقع ایک نجی مکان۔
6. وزیر اکبر خان مینہ کا تفتیشی مرکز۔
7. باریکوٹ ضلع کا خاد آفس۔
نجیب اللہ کے دور میں خاد کے مستقل اہلکاروں کی تعداد 25,000 سے 30,000 تک پہنچ چکی تھی۔ اگر بیرونی پارٹ ٹائم مخبروں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد 60,000 سے 90,000 بنتی تھی۔ خاد نے ڈاکٹر نجیب اللہ کے دور میں کچھ ایسے غیر قانونی کام اور لوٹ مار بھی کی، جو کسی پروفیشنل ایجنسی کے شایانِ شان نہیں ہوتے تھے۔
جب فروری 1980ء کی عوامی بغاوت کے بعد سوویت عسکری مہم ناکام ہونے لگی، تو انہوں نے خاد کی فراہم کردہ معلومات اور نیٹ ورک کی مدد سے پورے افغانستان میں انتقامی اور نظریاتی نسل کشی کا آغاز کیا ۔۔
غزنی کا قتلِ عام (مئی 1980): شلگیر کے قریب 'واغیز' گاؤں میں ایک زیرِ زمین کاریز میں پناہ لینے والے 30 دیہاتیوں پر سوویت فوج نے نامعلوم زہریلی گیس یا کیمیکل ایجنٹ چھوڑ کر انہیں کاریز کے اندر ہی ہلاک کر دیا۔
تاشقورغان کا قتلِ عام (اپریل 1982): مزاحمت کاروں کے ہاتھوں صرف تین روسی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے سوویت فورسز نے پورے تاشقورغان شہر کو ملیا میٹ کر دیا اور 200 کے قریب عام شہریوں کو پے در پے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
پادخابِ شانہ کا قتلِ عام (ستمبر 1982): صوبہ لوگر کے اس گاؤں میں جب عام سویلینز، بوڑھے اور بچے اپنی جان بچانے کے لیے ایک زیرِ زمین کاریز میں چھپ گئے، تو سوویت فوجیوں نے کاریز کے اندر پٹرول اور دھماکہ خیز مواد ڈال کر آگ لگا دی، جس سے 105 عام لوگ زندہ جل کر خاک ہو گئے۔
کلچابات، بالا کارز اور مشکیزی کا قتلِ عام (اکتوبر 1983): ان دیہاتوں کا گھیراؤ کر کے سوویت فورسز نے 360 کے قریب عام دیہاتیوں کو گھروں سے نکال کر گاؤں کے چوکوں میں کھڑا کیا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے اجتماعی طور پر قتل کر دیا۔
کوہستانات اور ارگون کے قتلِ عام (1984) مارچ اور نومبر 1984ء کے دوران سرخ فوج کی طرف سے کی جانے والی بڑے پیمانے کی فائرنگ میں مختلف دیہاتوں کے 140 سے زائد عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
قندوز کا قتلِ عام (دمر 1984): سوویت فوج کے انتقامی حملے میں قندوز کے پورے 'حاجی رحمت اللہ گاؤں' کو بمباری سے مٹا دیا گیا، جس میں 250 سے زائد شہری ہلاک ہو گئے۔
سوویت یونین اور خاد کے نیٹ ورک کا بنیادی نشانہ تین بڑے گروہ تھے: ماؤ نواز، اسلامسٹ اور وہ قوم پرست جو شاہی نظام کے وفادار تھے۔ اس دور میں خاد نے کابل یونیورسٹی کے نامور اساتذہ، قوم پرست جماعت 'افغان ملت' کے رہنماؤں اور بائیں بازو کے ان دانشوروں کو چن چن کر گرفتار کیا جو سوویت یونین کے نظریے کے مخالف تھے۔ اس دور میں بے شمار لوگوں کو پولی چرخی جیل کے پیچھے اجتماعی قبروں میں مخفی طور پر دفن کر دیا گیا یا "صدارت" کے عقوبت خانوں میں کے جی بی اور ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں مٹا دیا گیا۔
سابقہ کمیونسٹ افغان حکومت کے دور میں پولی چرخی جیل میں خاد ایجنسی کے رئیس 'عبدالرزاق' بعد میں ہالینڈ میں پکڑے گئے، جہاں ان پر ماورائے عدالت قتل، شکنجه دینے اور جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا گیا۔
ہالینڈ کی دائرۂ اختیارِ عالمی کے قانون کے تحت نیدرلینڈز کی عدالت میں ان پر مقدمہ چلا۔ عدالت نے متعدد گواہوں (سابقہ افغان قیدیوں) کے بیانات اور ناقابلِ تردید دستاویزی ثبوتوں کی بنیاد پر عبدالرزاق کو پولی چرخی جیل میں 1983ء سے 1988ء کے درمیان قیدیوں پر غیر انسانی سلوک، بیجا حراست اور تشدد کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے 12 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کا یہ دورِ خاد انتہائی متنازع اور ہولناک تاریخی حقائق سے بھرا ہوا ہے۔
جاری ہے
باچا نگرام
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.