Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2026

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar  افغانستان کے عوام پر کیا گزری لازمی ہے کہ ہم سب اس بارے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور المیات کے بارے میں تاریخی حقائق کا مطالعہ فرمائیں  حالانکہ درج ذیل کتاب کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے کے بعد پڑھ لیا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہونے کے باوجود دوبارہ مطالعہ کر رہا ہوں  اس کے علاؤہ دیگر کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں  میرے لاڈلے دہشت گرد پروفیسر  Muhammad Ismail  کی مہبربانی سے درج ذیل کتب مل گئی ہیں: Afghanistan  The Bear Trap  By  Brig. Mohamed Yousaf & Mark Adkin  The Afghanistan File  By  Prince Turki Alfaisal AlSaud  The Tragedy of Afghanistan  By  Raja Anwar  The Search for Peace In Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Fragmentation of Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Wrong Enemy  By  Carlotta Gall  اس سلسلے میں  احمد رشید کی مشہور کتاب  Taliban  ڈھونڈ رہا ہوں یہ سب کتابیں می...

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے ...

ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔

 ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔ جب بھی وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کی قدیم تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: ساکا (Saka)۔ یہ وہ خانہ بدوش ایرانی النسل اقوام تھیں جنہوں نے تقریباً نویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک یوریشیائی میدانوں، وسط ایشیا، باختر، سیستان اور شمالی برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ گھڑ سواری، تیراندازی، جنگی مہارت اور وسیع ہجرتیں ان کی پہچان تھیں۔ آج بھی ایک اہم سوال زیرِ بحث رہتا ہے: کیا موجودہ پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی قطعی تاریخی، لسانی یا جینیاتی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ساکا اقوام نے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور آبادی پر اثرات چھوڑے، اور انہی اثرات کے ماحول میں بعد کے ایرانی النسل گروہوں، بشمول پشتونوں، کی تشکیل ہوئی۔ ساکا کون تھے؟ قدیم فارسی کتبوں میں انہیں سکا (Sakā)، یونانی مؤرخین نے ساکائی (Sakai) اور ہندوستانی روایات میں شک (Śaka) کہا۔ یہ سکیتھیائی (Scythian) دنیا کی مشرقی شاخ تھے اور ان کی زبانیں مشر...