ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔
جب بھی وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کی قدیم تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: ساکا (Saka)۔ یہ وہ خانہ بدوش ایرانی النسل اقوام تھیں جنہوں نے تقریباً نویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک یوریشیائی میدانوں، وسط ایشیا، باختر، سیستان اور شمالی برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ گھڑ سواری، تیراندازی، جنگی مہارت اور وسیع ہجرتیں ان کی پہچان تھیں۔
آج بھی ایک اہم سوال زیرِ بحث رہتا ہے: کیا موجودہ پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں؟
اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی قطعی تاریخی، لسانی یا جینیاتی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ساکا اقوام نے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور آبادی پر اثرات چھوڑے، اور انہی اثرات کے ماحول میں بعد کے ایرانی النسل گروہوں، بشمول پشتونوں، کی تشکیل ہوئی۔
ساکا کون تھے؟
قدیم فارسی کتبوں میں انہیں سکا (Sakā)، یونانی مؤرخین نے ساکائی (Sakai) اور ہندوستانی روایات میں شک (Śaka) کہا۔ یہ سکیتھیائی (Scythian) دنیا کی مشرقی شاخ تھے اور ان کی زبانیں مشرقی ایرانی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔
ان کی سلطنتیں اور آبادیاں موجودہ:
- قازقستان
- ازبکستان
- کرغیزستان
- تاجکستان
- افغانستان
- سیستان
- بلوچستان
- شمالی پاکستان
- کشمیر
- سنکیانگ
- شمال مغربی ہندوستان
تک پھیلی ہوئی تھیں۔
ساکا اور افغانستان
قدیم افغانستان ساکا تاریخ کا اہم مرکز تھا۔
ہخامنشی بادشاہ دارا اوّل نے اپنے کتبوں میں مختلف ساکا قبائل کا ذکر کیا ہے۔ بعد میں یوئژی (Yuezhi) اور دوسرے خانہ بدوش گروہوں کی یلغار کے باعث ساکا جنوب کی طرف ہجرت کر گئے۔
ان میں سے بعض نے:
- سیستان (جسے بعد میں سکستان/سگستان کہا گیا)
- قندھار
- باختر
- گندھارا
- ٹیکسلا
- پنجاب
- سندھ
میں حکومتیں قائم کیں۔
برصغیر میں یہی حکمران تاریخ میں ہند-ساکا (Indo-Scythians) کہلاتے ہیں، جن کے مشہور بادشاہ ماؤس (Maues) اور ازیس (Azes) تھے۔
کیا پشتون ساکا ہیں؟
یہی سب سے اہم سوال ہے۔
انیسویں اور بیسویں صدی کے بعض یورپی مؤرخین، جیسے اولاف کیرو اور چند دیگر، نے اندازہ لگایا کہ پشتونوں میں ساکا عناصر موجود ہو سکتے ہیں۔
بعد میں بعض لسانیات دانوں نے بھی پشتو زبان میں چند ایسے الفاظ کی نشاندہی کی جنہیں ساکائی زبانوں سے قریب سمجھا گیا۔
لیکن جدید تحقیق زیادہ محتاط ہے۔
آج زیادہ تر مؤرخین اور ماہرینِ بشریات کا مؤقف یہ ہے کہ:
- پشتون ایک مخلوط مشرقی ایرانی النسل قوم ہیں۔
- ان کی تشکیل کئی صدیوں میں مختلف ایرانی قبائل، مقامی آبادیوں اور بعد کی تاریخی ہجرتوں کے امتزاج سے ہوئی۔
- موجودہ شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ تمام پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں۔
زبان کیا بتاتی ہے؟
پشتو ایک مشرقی ایرانی زبان ہے۔
یہ حقیقت ساکا کے ساتھ کچھ لسانی قربت ضرور ظاہر کرتی ہے، کیونکہ ساکا بھی مشرقی ایرانی زبانیں بولتے تھے۔
لیکن زبان کا رشتہ ہمیشہ نسلی رشتہ ثابت نہیں کرتا۔
دنیا میں بے شمار اقوام نے زبانیں بدلی ہیں جبکہ ان کا نسب مختلف رہا ہے۔
اسی لیے صرف زبان کی بنیاد پر پشتونوں کو ساکا قرار دینا درست نہیں۔
آثارِ قدیمہ کیا کہتے ہیں؟
وسط ایشیا میں ملنے والے:
- پازیریق
- ٹاگر
- تاسمولا
- ساوروماتی
- سبرشی
جیسی ثقافتوں کو ساکا یا سکیتھیائی دنیا سے جوڑا جاتا ہے۔
افغانستان کے طلا تپہ (Tillya Tepe)، باختر اور شمالی افغانستان سے بھی ساکا دور کے شاندار آثار ملے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ساکا تہذیب نے اس خطے کی ثقافت پر گہرا اثر چھوڑا۔
جینیاتی تحقیق
قدیم ڈی این اے پر ہونے والی نئی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ وسط ایشیا کی قدیم آبادیاں پہلے ہی مختلف نسلوں کا امتزاج تھیں۔
اسی طرح موجودہ پشتون بھی ایک مخلوط آبادی ہیں جن میں مختلف قدیم ایرانی، مقامی اور وسط ایشیائی عناصر شامل ہیں۔
اب تک کوئی ایسی جینیاتی تحقیق سامنے نہیں آئی جو یہ ثابت کرے کہ تمام پشتون براہِ راست صرف ساکا نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے اس دعوے کو تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
ساکا کی میراث
اگرچہ ساکا بطور الگ قوم تاریخ سے غائب ہو گئے، لیکن ان کی کئی روایات بعد کی اقوام میں منتقل ہوئیں، مثلاً:
- گھڑ سواری
- تیراندازی
- قبائلی تنظیم
- جانوروں پر مبنی فنِ مصوری
- خانہ بدوش جنگی ثقافت
یہ خصوصیات بعد میں وسط ایشیا اور افغانستان کی مختلف اقوام، بشمول بعض پشتون قبائل، میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں، لیکن انہیں براہِ راست نسلی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
خلاصہ۔
ساکا بلا شبہ وسط ایشیا، افغانستان اور شمالی برصغیر کی عظیم تاریخی اقوام میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس خطے کی سیاست، تجارت، جنگی حکمتِ عملی اور تہذیب پر گہرے اثرات چھوڑے۔ تاہم جدید تاریخ، لسانیات اور جینیات کی روشنی میں یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ پشتونوں اور ساکا کے درمیان تاریخی و ثقافتی تعلقات اور ممکنہ قدیم روابط ضرور موجود ہو سکتے ہیں، لیکن موجودہ علمی اتفاقِ رائے انہیں ایک ہی قوم یا براہِ راست نسلی تسلسل قرار نہیں دیتا۔
تاریخ کا حسن بھی یہی ہے کہ وہ جذبات نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر لکھی جاتی ہے، اور نئے آثار، نئی تحریریں اور نئی جینیاتی تحقیقات مستقبل میں اس موضوع پر مزید روشنی ڈال سکتی ہیں۔
_____________________________________________
کیا پشتو زبان ساکائی زبان سے نکلی ہے؟"
مختصر جواب: نہیں، موجودہ علمی اتفاقِ رائے کے مطابق پشتو زبان ساکائی زبان سے براہِ راست نہیں نکلی۔ البتہ دونوں کا تعلق مشرقی ایرانی (Eastern Iranian) زبانوں کے خاندان سے ہے، اس لیے ان کے درمیان بعض الفاظ، صوتیات اور لسانی خصوصیات میں مماثلت پائی جاتی ہے۔
تفصیلی جائزہ
پشتو اور ساکائی دونوں ہند-ایرانی (Indo-Iranian) شاخ کی مشرقی ایرانی زبانیں ہیں۔ ساکائی زبان قدیم ساکا اقوام کی زبان تھی، جس کی دو معروف شکلیں کھوٹانی ساکائی (Khotanese Saka) اور تمشقی ساکائی (Tumshuqese) تھیں۔ یہ زبانیں زیادہ تر موجودہ سنکیانگ (چین) کے کھوٹان اور اس کے گردونواح میں رائج تھیں، جبکہ پشتو بنیادی طور پر افغانستان اور موجودہ پاکستان کے مشرقی علاقوں میں ارتقا پذیر ہوئی۔
کچھ ممتاز ماہرینِ لسانیات، جیسے جارج مورگنسٹیرنے (Georg Morgenstierne)، نے یہ رائے دی کہ پشتو میں ساکائی زبان کے کچھ اثرات یا قدیم مشرقی ایرانی عناصر موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے بھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پشتو براہِ راست ساکائی زبان سے نکلی ہے۔
جدید لسانی تحقیق کے مطابق پشتو ایک آزاد مشرقی ایرانی زبان ہے، جس کی تشکیل مختلف قدیم مشرقی ایرانی بولیوں اور مقامی لسانی اثرات کے امتزاج سے ہوئی۔ دوسری طرف ساکائی زبانیں اپنی الگ شاخ تھیں، جو وقت کے ساتھ معدوم ہو گئیں۔
خلاصہ۔
اس لیے زیادہ درست بات یہ ہے کہ:
پشتو اور ساکائی بہن زبانیں (Sister Languages) ہیں، ماں اور بیٹی کی زبانیں نہیں۔
دونوں کی جڑیں ایک قدیم مشرقی ایرانی لسانی روایت میں ملتی ہیں۔
موجودہ علمی شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ پشتو براہِ راست ساکائی زبان سے وجود میں آئی ہے، البتہ ساکائی اور دیگر مشرقی ایرانی زبانوں کے اثرات پشتو کی تشکیل میں کسی حد تک شامل رہے ہوں، یہ ایک قابلِ بحث علمی امکان ہے۔
لہٰذا اگر کوئی یہ کہے کہ "پشتو ساکائی زبان ہی کی جدید شکل ہے" تو یہ دعویٰ موجودہ تحقیق کی روشنی میں درست نہیں، جبکہ یہ کہنا کہ "پشتو اور ساکائی دونوں مشرقی ایرانی لسانی خاندان کی قریبی زبانیں ہیں" زیادہ درست اور علمی موقف ہے۔
Comments
Post a Comment
Thanks for visiting Pashto Times. Hope you visit us again and share our articles on social media with your friends.