Skip to main content

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔


اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے علاقے باڑہ میں افغانستان سے ہجرت کرکے آنے والے پیر سیف الرحمان بھی آباد تھا، جس کو مختلف فرقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مفتی منیر شاکر نے اپنے ریڈیو تقاریر میں نشانے پر رکھ لیا۔ مفتی منیر شاکر دیوبندی+ پنچ پیری تھا جبکہ پیر سیف الرحمان کا تعلق بریلوی فرقے سے تھا۔ مفتی منیر شاکر کے پے درپے حملوں کا جواب دینے کےلئے بدلے میں پیر سیف الرحمان نے بھی اپنا ریڈیو چینل کھولا اور مفتی منیر شاکر کے مذہبی عقائد پر سخت تنقید شروع کی اور یوں ریڈیو پر دو مذہبی رہنماؤں کے درمیان تقاریر سے شروع ہونے والی یہ لڑائی بریلوی اور پنچ پیری + دیوبندیوں کی لڑائی میں بدل گئی۔


سن 2004ء میں مفتی منیر شاکر اور حاجی نامدار کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے تو منیر شاکر نے اپنا نیا ریڈیو چینل کھول لیا۔ نیا ریڈیو چینل کھولنے کے ساتھ پیر سیف الرحمان اور مفتی منیر شاکر کے درمیان ریڈیو پر جاری سخت بیانات فتوؤں، گالم گلوچ اور دھمکیوں تک پہنچ گئے۔ مفتی منیر شاکر نے 2004ء کے آخر میں مسلح تنظیم لشکر اسلام کی بنیاد رکھی اور منگل باغ نامی ایک بس ڈرائیور اُس کا قریبی دوست اور حمایتی بنا جبکہ لشکر اسلام کے خلاف تیراہ میں انصار الاسلام نامی تنظیم بنائی گئی، جن کو بعد میں پیر صاحب کی حمایت حاصل ہوگئی۔ ریڈیو پر جاری لڑائی جلد ہی مسلح تصادم میں بدل گئی۔ باڑہ کے مسجدوں کے سپیکروں سے فرقہ ورانہ بیانات جاری ہونا شروع ہوئے۔ دونوں مذہبی رہنماؤں کے حمایتی ایک دوسرے کے گھروں پر حملے کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں دیوبندیوں اور بریلویوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی۔


جنوری 2006ء کو مقامی جرگے نے جب مفتی منیر شاکر اور پیر سیف الرحمان کو خیبر ایجنسی سے نکال دیا تو لشکر اسلام کی سربراہی منگل باغ کے ہاتھ میں آئی، جس نے جون کے مہینے میں پیر سیف الرحمان کے گھر پر حملہ کرکے پیر صاحب کے خاندان کے چھ افراد کو زندہ جلا دیا۔ منگل باغ نے علاقے میں شریعت کے نفاذ کا اعلان کرکے عورتوں کو گھر سے نہ نکلنے، مخالفین کو قتل کرنے اور پانچ وقت نماز نہ پڑھنے والوں پر پانچ سو روپے جرمانہ عائد کردیا۔ اُن دنوں خیبر ایجنسی منگل باغ کے مکمل کنٹرول میں تھا اور جس نے کبھی قرآن کو ترجمہ سے پڑھا بھی نہیں تھا، وہ شخص اب امیر شریعت بن گیا تھا۔


جمہوریہ افغانستان کے خفیہ ایجنسی ( NDS) کے سابق سربراہ آمر اللہ صالح لکھتا ہے کہ مفتی منیر شاکر کے ریڈیو کو خیبر ایجنسی میں ہم نے شروع میں سپورٹ فراہم کی تھی کیونکہ پاکستان قبائلی علاقوں میں طالبان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہا تھا۔ تحریک طالبان کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے حاجی نامدار کو سن 2008ء میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا، جس کی زمہ داری ٹی ٹی پی کے امیر نے قبول کی۔ منگل باغ کو سن 2021ء میں ایک بارودی سرنگ میں افغانستان کے صوبے پکتیا میں نشانہ بنایا گیا جبکہ خیبر ایجنسی میں انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی لہر شروع کرنے کے آخری کردار مفتی منیر شاکر کو ایک سال پہلے پشاور کے علاقے اورمڑ میں دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس کی ذمہ داری دا*عش نے قبول کی۔


مفتی منیر شاکر کو سن 2007ء میں ایجنسیوں نے اٹھایا تھا اور دو سال تک قید میں رکھا، بعد میں مفتی صاحب دہشتگردی اور فرقہ واریت سے توبہ تائب ہوکر امن کے گیت گانے لگے لیکن مفتی صاحب کی بنائی گئی دہشتگرد تنظیم آج کل اتحاد المجاھدین پاکستان کا حصہ ہے جن میں القاعد*ہ کے فرنٹ گروپ (انقلاب اسلامی پاکستان) کے ساتھ ساتھ شمالی وزیرستان کے خافظ گل بہادر گروپ بھی شامل ہے اور روزانہ کی بنیادوں پر قبائلی علاقوں اور جنوبی پختونخوا کے اضلاع میں بم دھماکوں اور ڈرون حملوں میں لوگوں کی جانیں لے رہی ہیں۔ ریڈیو اور مسجدوں کے سپیکروں پر نفرتوں کے تقاریر سے شروع ہونے والی فرقہ وارانہ لڑائی نے ہزاروں معصوم لوگوں کی جانیں لینے کے بعد بھی روکنے کا نام نہیں لے رہی۔


بقول شاعر؛

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

کاپیڈ 



Comments