Skip to main content

Arabs at war in Afghanistan" by Mustafa Hamid

 سوویت یونین کے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر حملے سے قبل عرب دنیا میں رُونما ہونے والے متعدد سیاسی و مذہبی واقعات نے ایسے حالات پیدا کیے 

جنہوں نے عرب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان میں نام نہاد جہاد کی جانب راغب کیا اور پشاور کو عالمی جہادی گڑھ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں عرب ریاستوں کی پے در پے شکستیں، مصر کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اسلام پسند تنظیموں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن، حافظ الاسد کی شامی حکومت کا اخوان المسلمین پر شدید تشدد، اسرائیل کا لبنان پر حملہ، خانۂ کعبہ پر مسلح گروہ کا قبضہ، جنوبی یمن میں کمیونسٹ حکومت کا قیام اور ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب، اِن تمام واقعات نے عرب نوجوانوں میں سیاسی و مذہبی بے چینی کو گہرا کیا۔ 



چنانچہ افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف ایک بین الاقوامی پراکسی جنگ کے آغاز نے اِن جذبات کو عملی رخ دیا اور اپنے ممالک کے سیاسی و سماجی نظام سے نالاں متعدد عرب نوجوان پشاور پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان جانے اور اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنے ڈیرے ڈال لیے۔


بے نظیر بھٹو کی پہلی دور حکومت میں سابق آئی ایس آئی چیف حمید گل نے مجاہدین کے ہاتھوں جلال آباد پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، اِس منصوبے کے سب سے بڑے ناقد محمد المکٌاوی افغان جہاد میں شرکت کرنے سے پہلے مصر کے فوج میں اسرائیل کے خلاف 1973ء کے جنگ میں لڑ چکے تھے۔



 القا•عدہ کے شریک بانی اور بعد میں وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے ابو حفص المصری مصر کے فوج کے ایک افسر تھے۔ القا•عدہ کے پہلے ملٹری چیف ابو عبیدہ الپنشیری پشاور آنے سے پہلے بغداد کے پولیس چیف تھے۔ القا•عدہ کے موجودہ امیر سیف العدل مصری فوج میں کرنل تھے۔ ابو جہاد المصری افغانستان آنے سے پہلے مصر کے فوج میں اِنٹی میزائل یونٹ کا حصّہ تھے۔



 اسامہ بن لا•دن کے دوست ابو عبدالرحمان البی ایم 1973ء کے عرب اسرائیل جنگ کے دوران کیمیکل ہتھیاروں کے یونٹ کا حصّہ تھے۔ پشاور میں کتاب فروش اور بعد میں مشرق وسطیٰ کے جہادی تنظیموں میں ایک اہم کردار ادا کرنے والے ابو فراس السوری شام کے خافظ الاسد حکومت کے مظالم سے تنگ آکر پشاور منتقل ہوگئے تھا۔


مصر کے صدر انور سادات نے جب اسرائیل کو تسلیم کیا تو دو سال بعد دہشتگردوں کے ایک گروہ نے سادات کو فوجی پریڈ کے دوران قتل کردیا۔ اِن اسلام پسند تنظیموں پر جب مصر کی حکومت نے گھیرا تنگ کیا تو بہت سارے پشاور بھاگ گئے اور باقیوں نے جیل کاٹنے کے بعد جہاد کےلئے افغانستان اور پختونخوا کا رُخ کیا۔ مصری صدر انور سادات کو قتل کرنے والے خالد اسلامبولی کے بھائی محمد اسلامبولی اُن دنوں پشاور میں رہتا تھا اور لوگ اُن کی بہت عزت کرتے تھے۔ 


مصری جیل سے رہائی کے بعد القا•عدہ کے نمبر دو ایمن الظو•اہری بھی پشاور آئے اور اپنی تکفیری نظریات پر اسامہ بن لا•دن کو اپنا ہمنوا بنایا اور پشاور میں ہی مصر اور دوسرے عرب ممالک سے آنے والے نوجوانوں نے القا•عدہ کی بنیاد رکھی۔


القا•عدہ کے موجودہ امیر سیف العدل کے سُسر اور افغان جہاد کے دوران شروع میں پشاور آنے والے مصطفیٰ حامد عرف ابو ولید المصری اپنے کتاب "دی عرب ایٹ وار اِن افغانستان" میں لکھتے ہے کہ سویت-افغان جنگ کے دوران سی آئی اے، یورپی ممالک اور عرب دنیا سے بڑی مقدار میں مالی امداد کے ساتھ اسلحہ بھی مجاہدین کےلئے پاکستان آرہا تھا۔ 


وہ لکھتے ہے کہ آئی ایس آئی کے لوگ وہ اسلحہ بلیک مارکیٹ میں بیچ کے پیسے کما رہے تھے۔ آئی ایس آئی کے کوئٹہ کی پوری ٹیم کو اُن دنوں کرپشن کے الزامات پر ہٹایا گیا تھا۔ سویت-افغان جنگ کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل اختر عبدالرحمان کے بیٹے آج کل اربوں روپے کے سرمایہ دار ہیں۔ ایک بیٹا چار مرتبہ مسلسل ایم این اے بنا اور کئی دفعہ وفاقی وزیر بھی رہ چکا ہے جبکہ دوسرا بیٹا ہارون اختر خان آج کل وزیراعظم شہباز شریف کا مُشیر ہے۔



 بہت سے لوگوں نے جہاد کے نام پر اپنے اولاد کو ارب پتی بنایا جبکہ اُن پالیسیوں کی قیمت آج عام عوام کو بدامنی اور اپنی جانوں کی ضیاع کی صورت میں چکانا  پڑ رہا ہیں۔


عرب دنیا سے آنے والے جہادیوں نے پشتون معاشرے میں بہت سے تکفیری عقائد اور سخت گیر مذہبی نظریات اپنے ساتھ لے کر لائیں۔ پشاور جیسے پھولوں کے شہر کو نفرتوں، عداوتوں میں بدل دیا اور مذہبی عدم برداشت کو پشتون علاقوں میں چار سُو پھیلا دیا۔ اِن عربوں نے ہی طالبان کی پہلی دور حکومت میں افغانستان میں اپنے نظریات کی جڑیں مضبوط کئے اور پھر نائن الیون حملوں کے بعد پاکستان کے پشتون قبائلی علاقوں کو نفرتوں پر مبنی اپنے نظریات سے رنگ لیا۔ عرب کلچر کو اسلامی کلچر بناکر سادہ لوح پشتونوں کے سامنے پیش کیا اور پشتون کلچر کو اپنے ہی لوگوں کی نظروں میں گرایا اور اپنے کلچر اور تہذیب سے کٹے ہوئے لوگوں کی مثال ہوا میں کٹے پتنگ کی طرح ہوتی ہے جیسے ہوا کا دباؤ کہی بھی لے جا سکتا ہو۔



Courtesy;

"Arabs at war in Afghanistan" by Mustafa Hamid.

Comments