تہران امریکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو کس طرح دیکھ رہا ہے۔۔۔؟؟؟ 🔹 ایرانی تیل کے ٹینکروں پر حالیہ امریکی حملوں کے حوالے سے #ایران کی حکمتِ عملی سے وابستہ حلقوں میں ایک دلچسپ بحث جنم لے رہی ہے۔ کچھ لوگ انہیں محض امریکی بحری افواج پر ایرانی حملوں کا بدلہ نہیں مانتے، بلکہ واشنگٹن پر بڑھتے ہوئے عملیاتی (آپریشنل) اور معاشی دباؤ کے ردِعمل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ 🔹 دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ امریکی افواج اور اڈوں پر ایران کے مسلسل حملے، اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی اتحادیوں—خصوصاً حوثیوں کے ساتھ تصادم میں سعودی عرب—کی بڑھتی ہوئی شمولیت، امریکی فوجی وسائل بالخصوص پیٹریاٹ میزائل جیسے ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔ اسی وقت، ہرمز اور باب المندب کے اطراف غیر استحکام عالمی توانائیکی منڈیوں پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ 🔹 اس نقطہ نظر سے، ٹرمپ کی جانب سے ایک طرف تناؤ میں اضافہ (ایسکلیشن) اور دوسری طرف سفارتی اشارے دینا کوئی متضاد بات نہیں ہے۔ واشنگٹن جلد از جلد کوئی معاہدہ چاہتا ہے، لیکن پہلے اپنا رعب و دبدبہ (ڈٹرنس) بحال کرنا چاہتا ہے تاکہ کمزور موقف سے مذاکرات نہ کرنے پڑیں۔ 🔹 تاہم، اہم ...