Skip to main content

Posts

Showing posts from September, 2026

ثور انقلاب قسط 171 ٹور انقلاب اور ریڈیو کابل یہ آواز 27 اپریل 1978ء (7 ثور ) کی شام کے وقت میجر اسلم وطنجار کی ہے جو ریڈیو کابل پر نشر ہوئی ، جنہوں نے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے اعلان کیا تھا: "ہم وطنو، عزیزو! دھیان اور توجہ دیجیے! مسلح فوجی وطنجار کی طرف سے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ سنیے۔ تاریخ میں پہلی بار سلطنت، ظلم، استبداد اور نادر خان کے خاندان کے شخصی اقتدار کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور تمام ریاستی اقتدار عوام کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ تمام حکومتی اختیارات عسکری انقلابی کونسل کے پاس ہیں۔ پیارے ہم وطنو! آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ انقلابی کونسل کی جانب سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ ہر جگہ انقلابی محافظ تیار کیے جا رہے ہیں۔ انقلابی کونسل کی ہدایات اور احکامات کی پابندی کریں اور جلد از جلد عسکری انقلابی مراکزی ہدایت پر عمل کریں"۔ ابھی سردار داؤد زندہ تھے اور انہوں نے یہ خبر سنی ریڈیو پر سنی اور آگلے دن بچوں سمیت قتل کردیے گئے ۔ افغانستان میں ریڈیو کا قیام اصل میں غازی امان اللہ خان کے دور میں عمل میں آیا تھا، تاہم اسے شیطانی آلہ قرار دے کر بچہ سقہ کے دور میں تباہ کر دیا گیا۔ بعد میں شاہ ظاہر شاہ کے دور میں کابل میں 20 کلوواٹ کا ایک مضبوط ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا، جس کے بعد پشتو، دری، اردو، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوا۔ 27 اپریل 1978ء کے عسکری انقلاب کے بعد ریڈیو افغانستان صرف خبریں دینے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ وہ ملک کی سیاسی، عسکری اور نظریاتی جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار اور مرکزی پلیٹ فارم بن گیا۔ پل چرخی اور بگرام سے اٹھنے والے عسکری دستوں نے صدارتی محل (ارگ) پر حملے کے ساتھ ہی انصاری واٹ پر واقع ریڈیو افغانستان کی عمارت کا گھیراؤ کیا۔ میجر اسلم وطنجار کی قیادت میں بکتر بند گاڑیوں نے اسٹیشن کا کنٹرول حاصل کر کے تمام معمول کے پروگرام اور موسیقی معطل کر دی۔ شام تقریباً سات بجے میجر اسلم وطنجار نے کرنل عبدالقادر کی دیکھ بھال میں تیار کردہ تاریخی پیغام پشتو اور دَری دونوں زبانوں میں پڑھا کہ سردار داؤد کی سلطنت اور خاندانِ آلِ یحییٰ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اقتدار ملٹری انقلابی کونسل نے سنبھال لیا ہے۔ اس اعلان سے قبل اور بعد میں مسلسل فوجی مارچ اور انقلابی ترانے نشر کیے گئے تاکہ ہیبت قائم کی جا سکے۔ صدارتی محل کے اندر موجود صدر سردار داؤد خان نے اپنی کابینہ کے ساتھ ریڈیو پر ہی اپنی حکومت کے خاتمے کی خبر سنی اور آخری وقت تک مزاحمت کا فیصلہ کیا۔ نور محمد ترہ کی اور حفیظ اللہ امین کی زیرِ قیادت آنے والی نئی خلقی حکومت نے ریڈیو کو مارکسی و سوسیلسٹ نظریے کی ترویج کا مرکزی آلہ بنایا۔ پارلیمنٹ اور آئین کی عدم موجودگی میں تمام قوانین ریڈیو ہی سے نشر کیے جاتے تھے، جن میں جمہوری جمہوریہ افغانستان کے قیام کا فرمان نمبر 1، دیہی کسانوں کے قرضوں کی معافی کا فرمان نمبر 6، جبری جہیز پر پابندی کا فرمان نمبر 7، اور بڑے زمینداروں کی زمینیں ضبط کرنے سے متعلق فرمان نمبر 8 شامل تھے۔ اخبارات اور ریڈیو کی زبان یکسر بدل کر "زحمت‌کشان" (محنت کش)، "دهقانان"، "بورژوازی"، "امپریالزم"، اور "ضدِ انقلاب" جیسی مارکسی اصطلاحات کو لازمی قرار دے دیا گیا۔ نور محمد ترہ کی کی شخصیت کا سحر قائم کرنے کے لیے انہیں "د خلقو لوئے لارښود" (عوام کا عظیم رہنما)، "رهبر کبیر"، اور "معلم کبیر" کے القابات دیے گئے اور ریڈیو کا ہر بلیٹن ان کے اقوال، سوانح حیات اور لکھی ہوئی کتب کی قرائت سے شروع ہونے لگا۔ انقلاب کے بعد ریڈیو اسٹوڈیو صحافیوں کے لیے بندوق کی نوک پر چلنے والا ایک خوفناک مرکز بن گیا۔ اینکرز کو نرم اور شائستہ انداز سے روک کر بارودی، کرخت اور جاہ جلال والے انقلابی لہجے میں خبریں پڑھنے پر مجبور کیا گیا تاکہ ریاستی ہیبت قائم ہو سکے۔ ترہ کی کے القابات میں معمولی سی غلطی یا لفظ کا چھوٹ جانا حادثہ نہیں بلکہ عمدی تخریب کاری شمار ہوتا تھا۔ اسٹوڈیو کے اندر اگسا کے مسلح اہلکار ہر وقت موجود رہتے تھے، اور غلطی کرنے والے اینکرز کی نوکری سے برطرفی کے علاوہ گرفتاری، پل چرخی جیل منتقلی یا تشدد عام تھا۔ ظاہر شاہ اور داؤد خان کے دور کے پرانے اور سینیئر اینکرز، جیسے زلمی باباکوہی، رضا مائل، حمید مبشر، استاد لعل محمد شیرزاد، شفیقہ حبیبی، اور معصومہ عصمتی پر سنسرشپ لاگو کی گئی اور یرغمال بنا کر خبریں پڑھوائی گئیں۔ 1978ء سے 1980ء کے درمیان ریڈیو کے درجنوں سینیئر صحافیوں، مترجمین اور ٹیکنیشنز، جیسے عبدالرشید لطیف کو استخبارات نے گرفتار کر کے پل چرخی جیل میں ہلاک کر دیا یا وہ مفقود الاثر ہو گئے۔ ستمبر 1979ء میں ترہ کی کے قتل کے بعد حفیظ اللہ امین کے 104 دنوں کے اقتدار میں ریڈیو پر خوف کی ایک نئی لہر آئی۔ ریڈیو سے اعلان کیا گیا کہ ترہ کی شدید بیماری کے باعث انتقال کر گئے ہیں، اور ان کے تمام القابات راتوں رات ختم کر کے حفیظ اللہ امین کو "میر منشی"، "قدرمن رهبر"، اور "فرزندِ صادق خلق" بنا کر پیش کیا گیا۔ امین نے اکسا کو ختم کر کے اپنے بھتیجے اسد اللہ امین کی سربراہی میں 'کام' نامی ادارہ قائم کیا۔ ریڈیو کے نیوز ڈیسک پر اس ادارے کے مسلح اہلکاروں کی منظوری کے بغیر کوئی لفظ نشر نہیں ہو سکتا تھا۔ امین نے عوام میں خوف قائم کرنے کے لیے 12,000 مقتولین کی خبریں اور ریاستی دشمنوں کی گرفتاریوں کے بلیٹن نشر کروائے، جو ان کی مصالحت کے بغیر اصلاحات کی پالیسی کا حصہ تھا۔ 27 دسمبر 1979ء کو سوویت حملے (آپریشن طوفان-333) کے وقت کابل ریڈیو بند ہو گیا، تو ببرک کارمل نے ازبکستان کے شہر تاشقند کے ریڈیو سے ریکارڈ شدہ پیغام کابل ریڈیو کی فریکوئنسی پر نشر کیا اور امین کو فاشسٹ اور سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دے کر اقتدار کا اعلان کیا۔ پرچمی دور کے آغاز کے ساتھ ہی بیانیے میں معتدل تبدیلیاں لائی گئیں۔ سوویت حملے کو انقلابِ ثور کا نیا ارتقائی مرحلہ اور سوویت افواج کو محدود فوجی کمک کہا گیا۔ ریڈیو پر اسلامی شعائر مثلاً تلاوتِ قرآن، اذان، اور جمعہ کے خطبات بحال کیے گئے۔ سرخ پرچم کی جگہ دوبارہ افغان قومی پرچم (سیاہ، سرخ، سبز) کی نشریاتی اہمیت بیان کی گئی اور امین کے دور کے قیدیوں کی معافی کا اعلان ہوا تاکہ عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ کابل حکومت اور سوویت کنٹرول کو توڑنے کے لیے افغان مجاہدین نے متبادل میڈیا اپنایا۔ افغانستان کے پہاڑی مورچوں (پنجشیر اور نورستان) سے خچروں پر لادے جانے والے ٹرانسمیٹرز کے ذریعے "رادیو صدای جهاد" جیسے موبائل شارٹ ویو ریڈیوز قائم کیے گئے، جن سے جنگی احوال اور جہادی ترانے نشر ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ رات کی تاریکی میں مساجد، اسکولوں اور گھروں کے نیچے پھینکے جانے والے تحریری پمفلٹ یعنی شب ناموں کے ذریعے کابل حکومت کی سنسرشپ توڑی جاتی، ہڑتالوں کی کال دی جاتی اور سرکاری ملازمین کو تنبیہ کی جاتی تھی۔ افغان عوام نے سرکاری ریڈیو کے بجائے بی بی سی پشتو و دَری، وائس آف امریکہ، اور ریڈیو آزادی پر زیادہ اعتماد کیا۔ بعد میں خاد کے سابق سربراہ ڈاکٹر نجیب اللہ نے 1986ء سے 1992ء کے دور میں ریڈیو کو مارکسی نظریے سے نکال کر قومی آشتی اور ملی مصالحت کا آلہ بنایا۔ بورژوازی جیسے مارکسی الفاظ ختم کر کے مجاہدین کو اشرار کی بجائے برادرانِ ناراض اور مخالفینِ سیاسی کہا گیا۔ نجیب اللہ کی تقاریر کا آغاز بسم اللہ سے ہوتا تھا، اور انہوں نے 1987ء کے لویہ جرگہ، ملک کا نام جمہوریہ افغانستان رکھنے، اور اسلام کو باضابطہ مذہب قرار دینے کی خبریں جوش و خروش سے نشر کروائیں۔ سوویت انخلا کے بعد جلال آباد کی جنگ (1989ء) کے دوران نجیب اللہ کی اثر انگیز تقاریر نے ریڈیو کے ذریعے فوج کا حوصلہ بڑھایا، لیکن اپریل 1992ء میں حکومت کے زوال کے ساتھ ہی 25 اپریل 1992ء کو ریڈیو سے مجاہدین کی آمد کا باضابطہ اعلان نشر ہوا۔ افغانستان میں ریڈیو کا سفر بین الاقوامی نشریات اور تاریخی آرکائیو کے تحفظ کا بھی مرہونِ منت رہا۔ ریڈیو افغانستان کی ایکسٹرنل سروسز کے ذریعے اردو، انگریزی، عربی، روسی، فرانسیسی، جرمن اور بلوچی میں نشریات کی جاتی تھیں۔ اردو سروس کا مقصد پاکستان کے عوام اور بائیں بازو کو افغان زرعی اصلاحات اور پشتون و بلوچ تحریکوں کی حمایت پر ہموار کرنا تھا، جبکہ روسی سروس ماسکو ریڈیو اور ایجنسی 'تاس' کے تعاون سے افغانستان میں موجود سوویت فوجیوں کے لیے روسی ترانے اور سوویت افغان دوستی کا بیانیہ نشر کرتی تھی۔ 1992ء سے 1996ء کی خانہ جنگی میں عمارت پر بمباری سے نایاب ریلز ضائع ہوئے، اور 1996ء میں اسٹوڈنٹس نے ریڈیو کا نام "شریعت ږغ" رکھ کر موسیقی پر پابندی لگا دی اور ہزاروں کیسٹیں توڑ دیں۔ تاہم، عبد الکریم پاکزاد اور تکنیکی عملے نے اپنی جان پر کھیل کر ہزاروں ماسٹر ٹیپس کو اسٹوڈیو کی دیواروں کے پیچھے چھپا کر محفوظ رکھا۔ 2001ء کے بعد امریکی لائبریری آف کانگریس، یورپی یونین اور یونیسکو کی مدد سے ظاہر شاہ، داؤد خان، ترہ کی، امین، اور نجیب اللہ کی تاریخی تقاریر اور استاد سرآہنگ و احمد ظاہر کی نایاب موسیقی کو ڈیجیٹل فارمیٹ اور کلاؤڈ سرورز پر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔ اس قسط کی زیادہ تر مواد طلوع نیوز کی ڈاکومنٹری کے مرہونِ منت ہیں۔ تاہم اسلم وطنجار کی وہ مختصر گفتگو کی آواز کے زریعے جو خونی دروازہ کھول دیا تھا وہ آج دہائیوں تک جاری ہے ترتیب باچا نگرام

 Radio Kabul history of 100 years  ثور انقلاب قسط 171 ٹور انقلاب اور ریڈیو کابل  یہ آواز   27 اپریل 1978ء (7 ثور ) کی شام کے وقت میجر اسلم وطنجار کی ہے  جو ریڈیو کابل پر نشر ہوئی ، جنہوں نے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ پڑھتے ہوئے اعلان کیا تھا:  "ہم وطنو، عزیزو! دھیان اور توجہ دیجیے!  مسلح فوجی وطنجار کی طرف سے عسکری انقلابی کونسل کا اعلامیہ سنیے۔ تاریخ میں پہلی بار سلطنت، ظلم، استبداد اور نادر خان کے خاندان کے شخصی اقتدار کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور تمام ریاستی اقتدار عوام کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ تمام حکومتی اختیارات عسکری انقلابی کونسل کے پاس ہیں۔ پیارے ہم وطنو! آپ کو خبر دی جاتی ہے کہ انقلابی کونسل کی جانب سے اعلان کر دیا گیا ہے کہ ہر جگہ انقلابی محافظ تیار کیے جا رہے ہیں۔ انقلابی کونسل کی ہدایات اور احکامات کی پابندی کریں اور جلد از جلد عسکری انقلابی مراکزی ہدایت پر عمل کریں"۔ ابھی سردار داؤد زندہ تھے اور انہوں نے یہ خبر سنی ریڈیو پر سنی اور آگلے دن بچوں سمیت قتل کردیے گئے ۔ افغانستان میں ریڈیو کا قیام اصل میں غازی امان اللہ خان کے دور میں...