Skip to main content

Amir Abdur Rahman khan

 نورستان (سابقہ کافرستان) پر امیر عبدالرحمٰن خان کے دور میں ہونے والے مظالم اور تاریخی حقائق 

​تاریخ کا دامانِ زیست انسانی وحشت، درندگی اور سفاکی کے خونچکاں داستانوں سے بھرا پڑا ہے، لیکن کچھ مظلوم قوموں کی سسکیاں اور ان کا بہتا ہوا خون سیاست اور اقتدار کے مظلم طاقچوں میں اس طرح دفن کر دیا جاتا ہے کہ دنیا کی نگاہیں ان پر پڑ ہی نہیں پاتیں۔ تاہم، تاریخ کے بے باک اور سچے صفحات ان دردناک کہانیوں کو اپنے سینے میں محفوظ رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک روح فرسا، خونچکاں اور وحشت ناک کہانی افغانستان کے اس بدنصیب خطے کی ہے جسے کبھی کافرستان کہا جاتا تھا—وہ بستی جس کے بے گناہ، پرامن اور معصوم انسانوں کے خون سے دھلا کر اس کا نام نورستان رکھ دیا گیا۔ یہ وہ المیہ ہے جس کے آگے ہلاکو اور چنگیز خان کی بربریت بھی شرمسار نظر آتی ہے۔

​ڈیورنڈ لائن کی ڈیل اور خطے کا غصب ہونا

​یہ کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب 1893ء میں ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ طے پایا۔ انگریز افسران نے اپنے زاتی مفادات  کے عوض، مہترِ چترال کے اس تاریخی علاقے کو—جو ہمیشہ سے ایک آزاد اور جداگانہ خطہ رہا تھا—امیر عبدالرحمٰن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا حالانکہ واہ خان اسمار لال پورا وعیرہ علاقوں کی طرح تحریر میں لاے بعیر اشاروں سے امیر عبدالرحمن کے حوالے کیا تھا

​: یہ خطہ کبھی افغانستان کا حصہ نہیں رہا تھا۔ احمد شاہ ابدالی کے دورِ سلطنت میں، جب افغان حدود پنجاب، سرہند اور کشمیر تک پھیلی ہوئی تھیں، اس عظیم فاتح نے بھی سیاہ پوش بت پرستوں کی اس پرامن قوم پر کبھی دستِ درازی نہیں کی اور نہ ہی ان پر کوئی جبر روا رکھا۔نہ ہی افعانستان نہ اس علاقے سے باج وصول کی

​ کافرستان کے یہ باشندے ہزاروں سال سے یہاں آباد تھے اور مہترِ چترال کو اپنا حکمران اور روحانی پیشوا مانتے تھے۔ مگر انگریز افیسر کی سودے بازی نے اس معصوم قوم کو ایک سفاک حکمران کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔

​مظالم کا طوفان اور ’جہاد‘ کے نام پر قتلِ عام

​معاہدے کے دو سال بعد، 1895ء میں امیر عبدالرحمٰن نے اپنے اقتدار کو طول دینے، ملاؤں اور افغان سرداروں کو خوش کرنے کے لیے اس پرامن اور غیر مسلح قوم کے خلاف 'جہاد' کا نام نہاد اعلانیہ جاری کر دیا۔

​ایک طرف جدید اسلحہ سے لیس افغان فوج تھی، تو دوسری طرف اپنے بچاؤ کے لیے قدیم دور کے تیر و کمان، نیزے اور غلیلیں لیے بے بس و لاچار انسان۔

: افغان لشکروں نے دو اطراف سے حملہ کر کے ہنستی بستیاں اجاڑ دیں۔ قتل و غارت گری کی ایسی آگ بھڑکائی گئی کہ ہر شخص زیادہ سے زیادہ کافروں کو قتل کر کے 'ثواب' اور 'جنت' سمیٹنے کی دوڑ میں اندھا ہو گیا۔

​عورتوں اور بچوں پر مظالم: مردوں اور بوڑھوں کو بلا امتیاز ذبح کر دیا گیا۔ نو عمر دوشیزاؤں، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی لڑکیوں اور حتّٰی کہ شیر خوار بچیوں تک کو مالِ غنیمت سمجھ کر زبردستی نکاح کے نام پر بانٹ دیا گیا۔ سات سال تک کی عمر کے معصوم بچوں کو افغان سرداروں میں غلام بنا کر تقسیم کر دیا گیا۔ ظلم کی کہانیاں اس قدر زیادہ ہیں جس کے لیے سینکڑوں صفحات کے کتاب بھی کم پڑ سکتا ہے

​مہترِ چترال برطانوی ہند کو اس بربریت اور غصب کاری سے آگاہ کرتا رہا، مگر انگریزوں نے محض تشویش کا ایک بے اثر خط بھیج کر اپنا پلڑا جھاڑ لیا، جس کے جواب میں امیر نے اسے اپنا "اندرونی اور مذہبی معاملہ" قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ہزاروں لوگ قتل ہوے ہزاروں بے گھر ہوئے، جنہیں کابل منتقل کر کے زبردستی مسلمان بنایا گیا۔

​فتح کا جشن اور 'ضیاء الملت والدین' کا لقب

​1896ء میں، کافرستان کی تباہی اور ہزاروں بے گناہ انسانوں کی خاک اور خون پر کابل میں ایک عظیم الشان دربار سجایا گیا۔ بے گناہوں کے خون سے ہتھلیاں رنگنے والے امیر عبدالرحمٰن کو علماء اور سرداروں کی طرف سے "ضیاء الملت و الدین" (ملت اور دین کی روشنی) اور "غازی" کے القاب سے نوازا گیا، اور اس خون سے نہائے ہوئے علاقے کا نیا نام نورستان رکھ دیا گیا۔

​امیر نے دنیاوی اقتدار تو مضبوط کر لیا،اور عازی کا لقب بھی حاصل کیا  لیکن عرش والے کی عدالت کا ترازو قائم ہو چکا تھا۔ جشن کی گونج ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ قدرت کا قہر امیر عبدالرحمٰن پر نازل ہوا:

​: امیر ایک ایسی پراسرار اور مہلک بیماری میں مبتلا ہوا جس کے آگے تمام طبیب اور حکیم عاجز آ گئے۔

​: چند ہی دنوں میں غازی امیر کے جسم میں کیڑے پڑ گئے۔ جسم سڑنے لگا اور اس سے ایسی خوفناک بدبو اٹھی کہ کوئی اس کے قریب جانے کی تاب نہ رکھتا تھا۔ اس کے بستر تک عجیب الخلق کیڑوں سے بھر گئے۔

​: امیر کو خود احساس ہو چکا تھا کہ یہ معصوموں کے خونِ ناحق کی سزا ہے۔ وہ علماء کو بلا بلا کر اپنے لیے موت کی دعاؤں کی التجا کرتا تھا، مگر اجل نے بھی اسے فوراً پناہ نہ دی۔

​ بالآخر، ایک طویل، دردناک، ذلیل اور تعفن زدہ زندگی گزارنے کے بعد 1 اکتوبر 1901ء کو موت  نے رحمت کا فرشتہ بن کر اس ظالم کا شرمناک عبرتناک زندگی  سے نجات دلا دیا 

​یہ تو صرف کافرستان کے مظلوموں کی داستان تھی؛ امیر عبدالرحمٰن نے ہزارہ قوم پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے، وہ تاریخ کا ایک اور ایسا باب ہے جسے پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ انشاءاللہ اگلی پوسٹ میں                                      


ریسرچر ہیسٹورین ڈاکٹر فرہاد علی خاور


Copied

Farhad Ali Khawar

Comments