Skip to main content

Posts

Lyrics of Pashto Song Ogora Dab Dab Zama..

 Lyrics of Pashto Song Ogora Dab Dab Zama.. وګوره دبدب زما سل مې پۀ اردل کښې ځي سل مې غلامان دي، سل اسونه پۀ سل لارې ځي سل پکې ریبارې ځي سل مې محلونه دي سل مې برجلونه دي سل پکښې ډالونه دي سل پرې اویزانې کټارۍ دي د غضب زما وګوره دبدب زما سل دي جلادیان پکښې سل دي دورانچیان پکښې سل دي نوکران پکښې سل می لګیدلي خنجرونه پۀ اوربل کښې ځي سل مې په اردل کښې ځي سل دي سهیلۍ زما سل ګډې، چیلۍ زما سل پړي، سیلۍ زما سل مې کيجاوې د سلو سترګو راته دارې ځي سل پکې ریبارې ځي سل مې صفتونه دي سل مې نوبتونه دي سل مې جماتونه دي سل مې شجرې دي، سل کتابه د نسب زما وګوره دبدب زما سل مې سفیرۍ کوي سل زمیندارۍ کوي سل مې نوکرۍ کوي سل مې پۀ قولبو پسې جامبړي پۀ غوبل کښې ځي سل مې پۀ اردل کښې ځي سل مې ماشومانې دي سل پکښې ځوانانې دي سل مې بوډۍ ګانې دي سل مې مخکښې وروستو، سل کم عقلې، سل هوښیارې ځي سل پکښې ریبارې ځې سل پۀ زړۀ زخمونه مې سل سل پرهرونه مې سل قسمه دردونه مې سل ځله غوسېږي زړهٔ نادان دے بې ادب زما وګوره دب دب زما سل یې اداګانې دي سل یې جفاګانې دي سل یې خنداګانې دي سل یې ښائستونه اننګو له پۀ ول ول کښې ځي سل مې پ...

Word Khan origin and historical evolution in Urdu

 کلام اکبر سیال غږ خالد خان  خان" لفظ کی حقیقی تاریخ ۔۔۔۔ خان کا لفظ موجودہ زمانے میں اکثر مشرقی ممالک مثلا افغانستان , پاکستان, وسطی ایشیا, ایران, ہندوستان اور ترکی میں بکثرت استعمال ہوتا ہے. اس لفظ کے بارے میں مختلف علماء اور مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے اور اپنی رائے پیش کی ہے جن میں سے چند ایک کا ہم یہاں زکر کیے دیتے ہیں: نفسینی ڈکشنری کے مولف لکھتے ہیں کہ  " خان ترک زبان کا لفظ ہے اور چین, ترکستان و تاتارستان کے بادشاہوں کا لقب ہے جس کے معانی امیر, رئیس اور بیگ کے ہیں نور اللغات میں خان لفظ کی یہ تعریف بیان ہوئی ہے " یہ لفظ قدیم ایام میں ترکستان کے بادشاہوں کا لقب تھا لیکن موجودہ زمانے میں امراء و رووساء کے مابین مشہور ہے." امریکی دائرہ المعارف کے مطابق: " خان ابتدائی ادوار میں ترکستان میں کاروان یا قافلے کے سربراہ کو کہتے تھے. بعدا یہ لفظ مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہان کے لیے مستعمل رہا." خان صد فیصد ترکوں کا لقب ہے, اگر ہم تاریخ پر غور کریں تو خان کا لفظ اولین دفعہ ترک بن یافث کی پانچھویں پشت پر "باقوی خان" کے نام میں ملتا ہے جس کے بعد ان کی...

29 سالہ انتظار ختم۔ عبد الجبار کہ میرٹ پر تعیناتی

 29 سالہ انتظار ختم، عبدالجبار کی میرٹ پر عارضی تعینات منقول  استا محمد کے عبدالجبار کی داستانِ صبر و امید، کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کا میرٹ پر مبنی اقدام  عبدالجبار نے 1997ء میں پٹواری کا کورس مکمل کیا تھا۔ دورانِ کورس ان کے والد کا انتقال ہوگیا، تاہم تدریسی عمل اور امتحانات کی مجبوری کے باعث وہ اپنے والد کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے۔ والد کی جدائی کے صدمے کے ساتھ انہوں نے پٹواری کی ڈگری حاصل کی، مگر سرکاری ملازمت کا خواب پورا ہونے میں 29 سال لگ گئے اس دوران عبدالجبار نے ملازمت کے حصول کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں، مختلف سرکاری دفاتر کے چکر لگائے اور طویل انتظار و مشکلات کا سامنا کیا، تاہم امید کا دامن نہیں چھوڑا گزشتہ روز عبدالجبار ضلع استا محمد سے کمشنر نصیرآباد ڈویژن کے دفتر پہنچے۔ وہ عارضی بنیادوں پر ہونے والے انٹرویوز کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے آئے تھے۔ مالی مشکلات کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے پاس استا محمد سے ڈویژنل ہیڈکوارٹر تک سفر کے لیے موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانے کے بھی پیسے نہیں تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کی سونے کی بالی فروخ...

Arabs at war in Afghanistan" by Mustafa Hamid

 سوویت یونین کے دسمبر 1979ء میں افغانستان پر حملے سے قبل عرب دنیا میں رُونما ہونے والے متعدد سیاسی و مذہبی واقعات نے ایسے حالات پیدا کیے  جنہوں نے عرب نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان میں نام نہاد جہاد کی جانب راغب کیا اور پشاور کو عالمی جہادی گڑھ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسرائیل کے ہاتھوں عرب ریاستوں کی پے در پے شکستیں، مصر کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اسلام پسند تنظیموں کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن، حافظ الاسد کی شامی حکومت کا اخوان المسلمین پر شدید تشدد، اسرائیل کا لبنان پر حملہ، خانۂ کعبہ پر مسلح گروہ کا قبضہ، جنوبی یمن میں کمیونسٹ حکومت کا قیام اور ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب، اِن تمام واقعات نے عرب نوجوانوں میں سیاسی و مذہبی بے چینی کو گہرا کیا۔  چنانچہ افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف ایک بین الاقوامی پراکسی جنگ کے آغاز نے اِن جذبات کو عملی رخ دیا اور اپنے ممالک کے سیاسی و سماجی نظام سے نالاں متعدد عرب نوجوان پشاور پہنچے جہاں انہوں نے افغانستان جانے اور اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے اپنے ڈیرے ڈال لیے۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی دور حکومت میں سا...

Babrak Khan Zadran. A Hero of Afghan War.

 افغانستان میں زمانہ قدیم سے ایک فتوت وجانبازی کی بنیاد پر ایک طبقہ پالوچ/ښپه لوڅ يعنې ننگے پیروالاپایاجاتاتھا  یہ لوگ جانبازی دکھانے کےلئے ہرحدتک جاتے تھے جس میں ہاتھ میں انگارے پکڑنا ایک عام مظاہرہ ہوتاتھا جس میں گوشت تک پگھل جاتا مگر انکے منہ سے اف نہیں نکلتا تھا ببرک خان جدران پکتیا کے اسردار بھی پالوچ تھے.  انکی تصویر عموما لیاقت علی خان کے قاتل کے طور پر پیش کی جاتی ہے مگر یہ 1925میں امان اللہ غازی حکومت کے خلاف ایک بغاوت کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے  ببرک خان زدران  کو امانی دور میں لوگ "پالوچ جنرل" کہتے تھے۔  وہ ہمیشہ ننگے پاؤں رہتا تھا۔ ایک دن وہ امیر امان اللہ خان کے دربار میں آیا تو امان اللہ خان نے اس سے پوچھا:   "تم بڑے پکتیا کے مشہور سردار ہو، ننگے پاؤں کیوں گھومتے ہو؟"   اس نے جواب دیا: "میں قوم کا سردار ہوں اور جب میری قوم کے لوگ ننگے پاؤں گھومتے ہیں تو میں اپنے آپ کو جوتا پہننے کا حق نہیں دیتا!" ببرک خان، مزاک خان زدران کا بیٹا تھا جو 1862ء میں خوست میں رہتا تھا۔ اس وقت سرحدوں پر انگریزوں کے خلاف مزاحمت شروع ہو چکی تھی...

سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے

 سانس بند کرنے والے دیسی مہینے بھادوں کا آغاز 16 اگست سے ہو گا۔ حبس والی گرمی 15 ستمبر تک جاری رہے گی۔۔ *بھادوں کی حیرت انگیز معلومات* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 16 اگست سے شروع ہونے والا پنجابی مہینہ بھادوں اور اُسکی دلچسپ روایات بھادوں پنجابی اور نانک شاہی کیلنڈر کا چھٹا مہینا ہے جو ساؤن کے بعد آتا ہے اور آٹھویں انگریزی مہینے اگست کی 16 تاریخ سے ستمبر کی 15 تاریخ تک رہتا ہے اور اس مہینے کے 31 دن شمار کیے جاتے ہیں۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں ساؤن اور بھادوں بارشوں کے مہینے ہیں جس میں مُون سُون کی بارشیں ہاڑ یعنی جون اور جولائی کی شدید گرمی کے بعد گرمی کا زور توڑ دیتی ہیں اسی لیے بھادوں کو پنجاب میں اچھے موسم والا مہینہ جسکی گرمی برداشت کے قابل ہوتی ہے تصور کیا جاتا ہے۔  "بھادوں بارش کا مہینہ انتہائی خوبصورت مہینہ ہے اور ساؤن اور بھادوں رحمت والے مہینے ہیں جس میں بادل نیچے اُترتا ہے اور تیز بارش برساتا ہے جس سے پانی اور زمین شہد سے بھر جاتے ہیں اورخالق زمین پر گھومتا ہے”۔ روایات میں ہے کہ پنجابی کے 12 مہینوں کے نام گیاراں بھائیوں (ویساکھ، جیٹھ، ہاڑ، ساون، اسو، کتک، م...

Bakht e Rahman of Swat.

 لوگ شیکسپیئر کی بات کرتے ہے ۔۔جس نے انگریزی کو نہ صرف 1700 نںے الفاظ دییے ۔۔بلکہ بہت سب کچھ دیا ۔۔ تو دوسری طرف پشتو زبان کا عظیم ترین ڈرامہ نگار، شاعر، فلسفی، صوفی، نثر نگار، essayist، ماہر اقتصادیات فلکیات نفسیات و لسانیات، لوگوں کے دل کا اکلوتا بادشاہ، دل جلے، دل زخمی، دل اجھاڑ ، دل خوشگوار، دل خوش فہم( The great bakhti Rehman )  بختی رحمان  لوگوں کے درمیان شہرت رکھنے والا ہے ۔۔ بختي رحمان... د خپلو لفظونو خاوند نوټ: دا ليکنه صرف د مزاح دہ پارہ  ده. دہ علمی آؤ تحقیقی کار سرہ یی تعلق نشتہ △ ډبل بېډ (انگریزی Double Bed) → (دہ درینجیدلو کٹ) △ بې‌وفا →( لوغڑنہ چرګه) △ ډرون کیمرہ → (پلاسٹیکی سيزه‌کې) △ قهقهه وهل →( شېشنېدل) △ د پوليسو ګاډی →( پيپسي کولا ګاډی) △ بہترینہ خبری کول→ (پېنسي کړي مېلس) △ اخوا دېخوا →( انګه پېچه) △ بہترین جواب → (شوړه کړی جواب) △ قابل بچی → (مغوړی) △ بېکاره انسان →( لوړ پوکې) △ مشهوره ښځه →( آپړې دوپړې شانه ترور) △ د پنجاب علاقہ → (صابونۍ خاوره) △ شور جوړول او خلک تنګول →( بازار ګرمي) △ اخوا دیخوا→( اړته پڑته) △ لوفر د امير پلار نازولی زوی → ...

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar

Books to read about Afghanistan wars. Yousaf Anwar  افغانستان کے عوام پر کیا گزری لازمی ہے کہ ہم سب اس بارے میں گزشتہ پچاس برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور المیات کے بارے میں تاریخی حقائق کا مطالعہ فرمائیں  حالانکہ درج ذیل کتاب کے پہلے ایڈیشن شائع ہونے کے بعد پڑھ لیا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہونے کے باوجود دوبارہ مطالعہ کر رہا ہوں  اس کے علاؤہ دیگر کتابیں ڈھونڈ رہا ہوں  میرے لاڈلے دہشت گرد پروفیسر  Muhammad Ismail  کی مہبربانی سے درج ذیل کتب مل گئی ہیں: Afghanistan  The Bear Trap  By  Brig. Mohamed Yousaf & Mark Adkin  The Afghanistan File  By  Prince Turki Alfaisal AlSaud  The Tragedy of Afghanistan  By  Raja Anwar  The Search for Peace In Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Fragmentation of Afghanistan  By  Barnett R. Rubin  The Wrong Enemy  By  Carlotta Gall  اس سلسلے میں  احمد رشید کی مشہور کتاب  Taliban  ڈھونڈ رہا ہوں یہ سب کتابیں می...

مفتی منیر شاکر کی زندگی

 حاجی نامدار آفریدی کا تعلق خیبر ایجنسی کے وادی تیراہ سے تھا، سن 2003ء میں سعودی عرب سے واپس آنے کے بعد خیبر ایجنسی میں اُس نے "امر باالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جس کا مقصد شریعت کا نفاذ، معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور سماجی نظام کو اسلامی قوانین کے ماتحت کرنا بتایا گیا۔ حاجی نامدار کے تحریک پر افغان طالبان کے طرزِ فکر کے اثرات نمایاں تھے۔ تنظیم نے مقامی تنازعات کے فیصلے کرنے، جرائم کے خلاف کارروائی کرنے اور اپنی طرز پر عدالتی نظام چلانے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو ہم خیال بنانے کےلئے ایک ایف ایم ریڈیو بھی کھولا جس پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ اور اسلام کی سخت گیر تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھمکایا بھی جاتا تھا۔ اُن دنوں مفتی منیر شاکر کو فرقہ ورانہ خیالات رکھنے کی وجہ سے کُرم ایجنسی سے نکالا گیا تھا۔ حاجی نامدار نے مفتی منیر شاکر کو خیبر ایجنسی میں اپنے ہاں پناہ دی اور اُنہیں اپنے ریڈیو کا نگران بنایا۔ مفتی منیر شاکر نے ریڈیو پر شریعت کے نام پر پروپیگنڈہ کرنے اور جذباتی تقاریر سے بہت کم عرصے میں مقامی لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ اُن دنوں خیبر کے ...

ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔

 ساکا اور پشتون: تاریخ، حقیقت اور تحقیق کی روشنی میں ایک غیر جانب دار جائزہ۔ جب بھی وسط ایشیا، افغانستان اور برصغیر کی قدیم تاریخ کا ذکر ہوتا ہے تو ایک نام بار بار سامنے آتا ہے: ساکا (Saka)۔ یہ وہ خانہ بدوش ایرانی النسل اقوام تھیں جنہوں نے تقریباً نویں صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک یوریشیائی میدانوں، وسط ایشیا، باختر، سیستان اور شمالی برصغیر کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ گھڑ سواری، تیراندازی، جنگی مہارت اور وسیع ہجرتیں ان کی پہچان تھیں۔ آج بھی ایک اہم سوال زیرِ بحث رہتا ہے: کیا موجودہ پشتون براہِ راست ساکا قوم کی اولاد ہیں؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس کا کوئی قطعی تاریخی، لسانی یا جینیاتی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ساکا اقوام نے اس خطے کی تاریخ، ثقافت اور آبادی پر اثرات چھوڑے، اور انہی اثرات کے ماحول میں بعد کے ایرانی النسل گروہوں، بشمول پشتونوں، کی تشکیل ہوئی۔ ساکا کون تھے؟ قدیم فارسی کتبوں میں انہیں سکا (Sakā)، یونانی مؤرخین نے ساکائی (Sakai) اور ہندوستانی روایات میں شک (Śaka) کہا۔ یہ سکیتھیائی (Scythian) دنیا کی مشرقی شاخ تھے اور ان کی زبانیں مشر...

برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل

  برطانوی سلطنت کا افیون کا کالا کاروبار: بنگال کا "افیون کیپیٹل"، جارج اورویل کے والد، اور افیون جنگوں کی اصل کہانی تعارف برطانوی سامراج کا ذکر آتے ہی اکثر ریلوے، عدالتی نظام، انگریزی تعلیم اور نوآبادیاتی انتظامیہ کی بات کی جاتی ہے، لیکن اس تاریخ کا ایک نہایت تاریک باب بھی ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے۔ یہ باب افیون (Opium) کی عالمی تجارت، کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر اس کے تباہ کن اثرات، اور سامراجی منافع خوری کی داستان بیان کرتا ہے۔ 18ویں اور 19ویں صدی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں برطانوی حکومت نے ہندوستان میں افیون کی کاشت، پیداوار اور برآمد کو ایک منظم سرکاری صنعت میں تبدیل کر دیا۔ اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی برطانوی سلطنت کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئی۔ برطانوی راج کا "افیون ڈیپارٹمنٹ" بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برطانوی ہندوستان میں باقاعدہ Opium Department موجود تھا، جو انڈین سول سروس کے تحت کام کرتا تھا۔ اس محکمے کی ذمہ داریوں میں شامل تھا: کسانوں سے پوست کی کاشت کروانا افیون کی پیداوار کی نگرانی معیار کی جانچ سرکاری خریداری...

تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ

تساوی تاریخی ایران و بلژیک در جام جهانی ۲۰۲۶؛ حماسه یوزها مقابل شیاطین سرخ جام جهانی ۲۰۲۶ در گروه G خود شاهد یکی از شگفت‌انگیزترین، تاکتیکی‌ترین و دراماتیک‌ترین مسابقات تاریخ فوتبال آسیا بود. تیم ملی فوتبال ایران در یک تقابل نفس‌گیر به مصاف بلژیک، یکی از قدرت‌های برتر فوتبال جهان و رتبه ۱۰ رنکینگ فیفا رفت و موفق شد با یک نمایش شاهکار و دفاعی منسجم، حریف پرآوازه خود را با تساوی ۰-۰ متوقف کند. این نتیجه نه‌تنها جدول گروه را کاملاً پیچیده کرد، بلکه تحسین تمام کارشناسان بين‌المللی را برانگیخت. آیا ایران در حد و اندازه بلژیک بود؟ تقابل دارا و ندار در مستطیل سبز بر روی کاغذ و طبق پیش‌بینی تمام تحلیل‌گران، بلژیک شانس ۱۰۰ درصدی پیروزی بود. شیاطین سرخ با داشتن ستارگان چند صد میلیون دلاری شاغل در بزرگترین باشگاه‌های اروپا مانند کوین دی بروینه، روملو لوکاکو و تیبو کورتوا، یک غول بی‌شاخ‌ودم به نظر می‌رسیدند. در طرف مقابل، ایران هرچند ستاره‌های باانگیزه‌ای داشت، اما از نظر ارزش اسکواد و تجربه بین‌المللی در سطحی کاملاً متفاوت قرار داشت. با این حال، فوتبال بار دیگر نشان داد...

Can You Listen to XM Satellite Radio in Pakistan? (Complete Guide & Best Alternatives)

 Can You Listen to XM Satellite Radio in Pakistan? (Complete Guide & Best Alternatives) Radio technology has evolved dramatically over the decades. From the classic shortwave bands to modern digital broadcasting, radio enthusiasts are always on the lookout for premium audio content. If you are a radio hobbyist living in South Asia, or a traveler visiting the region, you might have wondered: **Can you listen to XM Satellite Radio (SiriusXM) in Pakistan?** In this comprehensive guide, we will break down how satellite radio works, why geographical boundaries limit its reach, and the best legal workarounds and alternatives to enjoy high-quality international broadcasts from Pakistan. What is XM Satellite Radio? XM Satellite Radio (now merged and known as **SiriusXM**) is a premium American satellite radio service. Unlike traditional AM/FM radio that relies on localized terrestrial towers, SiriusXM broadcasts high-digital-quality audio directly from geostationary satellites orbiting...

US Iran MOU Signed Digitally. MOU All Points in Pashto.

 US Iran MOU Signed Digitally. MOU All Points in Pashto. د امریکا او ایران تر منځ په لاندې مادو هوکړه شوې: لومړۍ ماده: د امریکا متحده ایالات، د ایران اسلامي جمهوریت او د هغوی متحدین په روانه جګړه کې دا تفاهم‌لیک لاسلیکوي، څو په ټولو جبهو، د لبنان په ګډون د پوځي عملیاتو سمدستي او دایمي پای اعلان کړي. دواړه لوري ژمنه کوي چې له دې وروسته به د یو بل پر ضد هېڅ جګړه او یا پوځي عملیات نه پیلوي، د زور ګواښ او کارونې څخه به ډډه کوي او د لبنان ځمکنۍ بشپړتیا او ملي حاکمیت به تضمینوي. وروستۍ هوکړه به په ټولو جبهو، د لبنان په ګډون د جګړې د دایمي پای او د دې مادې د نورو احکامو تایید وکړي. دویمه ماده: د امریکا متحده ایالات او د ایران اسلامي جمهوریت ژمنه کوي چې د یو بل ملي حاکمیت او ځمکنۍ بشپړتیا ته به درناوی کوي او د یو بل په کورنیو چارو کې به لاسوهنه نه کوي. درېیمه ماده: د امریکا متحده ایالات او د ایران اسلامي جمهوریت ژمنه کوي چې په ۶۰ ورځو کې به خبرې اترې ترسره کړي او وروستۍ هوکړې ته به ورسېږي. دا موده د دواړو لورو په رضایت غځېدلی شي. څلورمه ماده: د دې تفاهم‌لیک له لاسلیک وروسته به د امریکا متح...

نجیب اللہ بطور خاد ایجنسی کے سربراہ

 # ثور انقلاب: قسط 5 —  ڈاکٹر نجیب اللہ بطور  خاد ایجنسی کے سربراہ  (1980 تو 1985)   ڈاکٹر نجیب اللہ کو خاد کا پہلا سربراہ منتخب کرنے کے پیچھے سوویت یونین کی گہری اسٹریٹجک، سیاسی اور ذاتی وجوہات تھیں۔ سوویت یونین کے نزدیک خاد کے تمام باقاعدہ اعلیٰ حکام کے لیے پرچمی ہونا اور پارٹی نظریات سے مخلص ہونا لازمی تھا تاکہ کابل میں سوویت مشن کے سیاسی و ریاستی مفادات کی وفاداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ نے سوویت افواج کی آمد کے بعد پرچمیوں کے اس 'ایکٹیوسٹ' گروپ کی قیادت کی تھی جس نے 'کام سے انٹیلی جنس کے امور اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر بہا اور کے جی بی کے مشیروں کے ساتھ مل کر سوویت خفیہ ایجنسی کے طرز پر خاد کا کثیر الجہتی اور وسیع تنظیمی ڈھانچہ خود ڈیزائن کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ اس نظام کو چلانے کے لیے موزوں ترین انتخاب تھے۔ نجیب اللہ میں یہ صلاحیت موجود تھی کہ وہ چیکا کے بانی فیلکس دزیرژینسکی کے ان سخت گیر اور بے رحم جنگی اصولوں پر عملدرآمد کروا سکیں جہاں انصاف کے بجائے دشمن کا مکمل خاتمہ مقصود ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکری مزاحمت اور کابل کے اندرو...

Urdu jokes

 ‏مریض کمر درد لے کر ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا اتنا شدید درد کیسے شروع ہوا، آیا کوئی چوٹ آئی۔؟؟ مریض بولا، "میں موبائل فون سروس سنٹر پر رات بھر ڈیوٹی کر کے صبح سحری وقت سے پہلے گھر پہنچا۔ بیڈ روم سے کچھ مشکوک آوازیں سنائی دیں۔ مجھے شک ہوا۔ میں بھاگ کر بیڈ روم میں گھسا۔ وہاں میری بیوی کے سوا کوئی نہیں تھا۔ میں نے تیزی سے بالکونی سے نیچے جھانکا۔ ایک آدمی کپڑے پہنتا بلڈنگ سے باہر کو بھاگا جا رہا تھا۔ میں نے تیزی سے فریج اٹھا کر نیچے اس پر دے ماری۔ یوں کمر کو درد شروع ہو گیا۔" وہ ابھی موجود تھا کہ ایک اور مریض پہنچا۔ اس کی حالت ایسی تھی جیسے کسی گاڑی سے ٹکرا گیا ہو۔ ڈاکٹر نے فوراً اسے ایمرجنسی میں ڈالا اور حادثہ کی نوعیت پوچھی۔ مریض بولا، "صبح دفتر وقت سے پہلے پہنچنا تھا۔ جو نہی سحری جاگا بھاگم بھاگ الٹے سیدھے کپڑے پہنتا اپارٹمنٹ سے نکلا ہی تھا کہ جانے کہاں سے میرے اوپر ایک فریج آ گری۔" ڈاکٹر ابھی پریشان ہو ہی رہا تھا کہ ایک اور مریض جو انتہائی بھیانک حالت میں تھا، پہنچا۔ ڈاکٹر نے پوچھا کیا ہوا تو بولا، "کچھ نہیں، بس فریج میں بیٹھا تھا کہ کسی نے فریج اٹھا ...

Sardar Anayatullah Khan, Brother of Amir Amanalullah Khan

 امیر امان اللہ خان کے بعد، ان کے بھائ  افغانستان کے امیربن گئے تھے اس تصویر میں  سردار عنایت اللہ خان وطن سے نکلنے کے وقت۔ 1929ء  کابل  دکھائے گئے ہے  ماخذ:پاکستان کی وزارت دفاع کی ویب سائٹ غازی امان اللہ کی جگہ سردار عنایت اللہ کو امیر بنانے کا مطالبہ شنواری اور خوبانی باغی کررہے تھے جو بروقت نہیں مانا گیا جسکی وجہ سے رفتہ رفتہ بچہ سقہ کی قوت میں اضافہ ہوتا گیا آخروقت میں غازی امان اللہ کے جانے کے بعد انکو امیربنایاگیامگر پھر بات نہیں بنی باغی کابل تک پہنچ چکے تھے غالب امکان ہے کہ سردار عنایت اللہ خان کا یہ فرار افغان اور برطانوی تاریخ میں فضائی انخلا کا پہلا آپریشن تھا، جس میں 586 افغان حکام کو 84 پروازوں میں ملک سے نکالا گیا۔   ان آپریشنز کی قیادت سر ایولاچپمین، نامی انگریز افیسرکے ذمے تھی، اور سردار عنایت اللہ خان کے طیارے کا نام "وِکٹوریا" تھا۔   دوسری تصویر سردار عنایت اللہ خان کی ہے... سیف لودھین سے بہ اضافہ وتصحیح

وہ ٹاپ ٹین ممالک جہاں استاد کی تنخواہ سب سے زیادہ ہے۔۔

 بین الاقوامی اداروں  (جیسے OECD)  کی تازہ ترین عالمی رپورٹس کے مطابق، دنیا کے وہ ٹاپ 10 ممالک جہاں اساتذہ کو سب سے زیادہ سالانہ تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں، درج ذیل ہیں:  1۔ لکسمبرگ (Luxembourg) یہ ملک اساتذہ کو معاوضہ دینے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے۔ یہاں ایک عام استاد کی ابتدائی تنخواہ ہی تقریباً 70,000 امریکی ڈالر سالانہ سے شروع ہوتی ہے اور تجربے کے ساتھ 125,000 ڈالر سالانہ سے بھی اوپر چلی جاتی ہے۔  2۔ جرمنی (Germany) جرمنی میں اساتذہ کو بہت اعلیٰ سرکاری افسران کا درجہ اور زبردست مراعات ملتی ہیں۔ یہاں اوسط ابتدائی تنخواہ تقریباً 70,000 ڈالر ہے، جبکہ سینیئر اساتذہ سالانہ 90,000 سے 100,000 ڈالر تک آسانی سے کماتے ہیں۔ ۔ سوئٹزرلینڈ (Switzerland) یہاں تعلیمی نظام اور معیارِ زندگی دونوں ہی بہت بلند ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں اساتذہ کی اوسط سالانہ تنخواہ 75,000 ڈالر سے شروع ہو کر 115,000 ڈالر تک جاتی ہے، تاہم یہاں رہائشی اخراجات بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔  4۔ ڈنمارک (Denmark) ڈنمارک اپنے شہریوں کو بہترین سماجی تحفظ دینے کے لیے مشہور ہے۔ یہاں اساتذہ کی ابتد...

حکیم بابر اور صائمہ کیس کا مکمل پوسٹ مارٹم

 حکیم بابر اور صائمہ کیس کا مکمل پوسٹ مارٹم     حکیم بابر اور صائمہ کیس: روایتی حکمت بمقابلہ جدید میڈیکل   سوشل میڈیا پر حالیہ "حکیم بابر اور صائمہ کیس" نے جہاں عوام کی توجہ حاصل کی، وہیں یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ ہمیں اپنی صحت کے لیے کس طریقہ علاج پر بھروسہ کرنا چاہیے۔  حکیم بابر کا حکمت کی جانب واپس بلانے کا نظریہ اپنی جگہ، لیکن اس واقعے نے ایک تلخ حقیقت کو بھی آشکار کیا ہے۔  جب حکیم صاحب خود زہر خوانی (poisoning) کا شکار ہوئے، تو وہ طبی امداد کے لیے کسی حکمت کے مرکز کے بجائے جدید ہسپتال اور مستند ایلو پیتھک (Allopathic) ڈاکٹروں کے پاس گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایمرجنسی اور پیچیدہ طبی مسائل میں جدید سائنس، کلینیکل ٹرائلز اور ٹیسٹ شدہ ادویات ہی انسانی جان بچانے کا سب سے محفوظ ذریعہ ہیں۔ ہمیں اپنی ثقافتی ورثے اور حکمت کی قدر کرنی چاہیے، مگر صحت جیسے حساس معاملے میں جدید طبی سہولیات سے استفادہ کرنا نہ صرف عقلمندی ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔   The Hakeem Babar & Saima Case: Traditional Wisdom vs. Modern Medical Science The viral ...

Afghan files. Urdu Summery. Copied

 سویت افغان جنگ کے دوران سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی، جی ائی ڈی کے سربراہ رہنے والے پرنس ترکی الفیصل اپنی کتاب "دی افغان فائل" میں لکھتے ہے کہ جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کرلیا تو پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے کچھ دنوں بعد آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمان کو مجاہدین کےلئے مالی اور عسکری مدد حاصل کرنے کےلئے ریاض بھیجا۔ جنرل اختر نے ریاض میں دو دن گزارے، بادشاہ شاہ خالد اور ولی عہد شاہ فہد سے ملاقات کی اور ہم نے فوراً مدد دینے کا فیصلہ کیا۔ پرنس ترکی الفیصل مزید رقمطراز ہے کہ جنرل اختر کے ریاض سے واپس جانے کے دو دن بعد میں نے اپنے چیف آف سٹاف احمد بدیب کو دو صندوقوں میں دو ملین ڈالرز نقد لئے ہوئے اسلام آباد  بھیجا۔ یہ رقم 100 کے نوٹوں میں تھی، کل 20,000 نوٹ۔ رقم کو نقد بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ شروع سے ہم، پاکستانی اور امریکن یہ نہیں چاہتے تھے کہ افغان مجاہدین کےلئے ہماری امداد کا سراغ لگایا جاسکے۔ اور تمام 100 کے نوٹ بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ ہم سب کو معلوم تھا کہ 100 کے نوٹ مجاہدین کےلئے خاص کشش رکھتی تھی۔ کتاب میں مزید لکھا ہے کہ احمد بدیب ڈالرز سے بھرے صندوقوں ...