Skip to main content

Posts

Reuters details Gulf's dependence on desalination here:

 Reuters details Gulf's dependence on desalination here: In the United Arab Emirates, desalinated water accounts for more than 80% of potable water. Bahrain became fully reliant on desalinated water in 2016, with 100% of groundwater reserved for contingency plans, authorities have said. Qatar is 100% dependent on desalinated water. Desalination supplies 90% of Kuwait's residential water needs. Oman is 86% reliant on desalination for its people's needs. In Saudi Arabia, a much larger nation with a greater reserve of natural groundwater, about 50% of the distributed water supply came from desalinated water as of 2023, according to the General Authority for Statistics. Bahrain, Kuwait, Oman, Qatar, Saudi Arabia, and the UAE combined produce around a third of the world's desalinated water and are home to many of its largest desalination plants. The six countries, which form the Gulf Cooperation Council, have a combined population estimated by the U.N. to have topped 61 mill...

Recen Iran attacks on Jubail KSA city industrial zone

 🚨 Iran’s recent attack on Saudi oil facilities, despite the President of Iran and the Foreign Ministry issuing statements that they would not attack Saudi Arabia, represents an irresponsible, miscalculated, and counterproductive strike on Saudi Arabia’s critical non-military infrastructure. Two scenarios may emerge from this situation.  1. Either Iran carried out the attack with the full consent of the government and all elements of the state, in which case it reflects the development of what can be described in international relations as a form of schizoid paranoia, a trajectory that often precedes pariah-state behavior.  This implies that a state begins to perceive every other actor in the international system as an adversary, with no meaningful allies, which is highly problematic. 2. The second scenario is that elements within Iran carried out the attack without the consent of the state. This is equally problematic, as it reinforces the Western narrative of Iran as a...

مہمان نوازی کی روایت

 ‏مزاحیہ مگر سبق آموز کسی گاؤں کے لوگ اپنی مہمان نوازی کے لیے دور دور تک مشہور تھے۔ ان کے ہاں اگر کوئی اجنبی آ بھی جاتا تو اس پر ایسے ٹوٹ پڑتے جیسے وہ کوئی شہزادہ ہو۔ دال، گوشت، پراٹھے، حلوہ، لسی اور اوپر سے دہی تک دسترخوان پر چُن دیتے۔ ایک دن ایسا ہی ہوا۔ ایک اجنبی مہمان گاؤں آیا۔ گاؤں والے بھاگے بھاگے کھانے لائے اور دسترخوان یوں سجا دیا جیسے ولیمے کی دعوت ہو۔ مہمان نے کھانے دیکھ کر خوشی سے جی بھر کے قہقہہ لگایا... لیکن اگلے ہی لمحے اس کی ہنسی کے دانت اندر اٹک گئے۔ کیونکہ دسترخوان کے عین بیچ میں ایک بڑا سا موٹا ڈنڈا بھی رکھ دیا گیا تھا۔ مہمان نے تھوک نگلا اور ڈرتے ڈرتے پوچھا "بھائی یہ ڈنڈا... یہ کیوں رکھا ہے؟" گاؤں والے مسکراتے ہوئے بولے، "ارے بھائی صاحب! یہ ہماری پرانی روایت ہے بس اسے ہی پورا کر رہے ہیں، آپ ڈریں نہیں۔ کھانا شروع کریں۔" لیکن مہمان کے دل میں کھٹک بیٹھ گئی۔ اس نے سوچا، "کہیں کھانا کھلا کے آخر میں اسی ڈنڈے سے میری دھلائی نہ ہوجائے۔" وہ اندر ہی اندر سہم گیا اور ضدی لہجے میں بولا، "جب تک اس ڈنڈے کی حقیقت نہیں بتاتے، میں تو ایک نوالہ بھی ن...

‏‏پاکستان میں زندگی گزارنے کے 15 طریقے پاکستان میں زندگی گزارنا ایک فن ہے، اور یہاں وہی شخص

 ‏‏پاکستان میں زندگی گزارنے کے 15 طریقے پاکستان میں زندگی گزارنا ایک فن ہے، اور یہاں وہی شخص سکون سے رہتا ہے جو حالات سے لڑنے کی بجائے انہیں ”ہینڈل“ کرنا سیکھ لے۔ یہ وہ 15 زمینی حقائق ہیں جنہیں اگر آپ حکمت اور سمجھداری کی ”میٹھی گولی“ سمجھ کر نگل لیں، تو آپ کی زندگی بہت آسان ہو جائے گی۔ 1-ظاہر پر یقین  یہاں لوگ کتاب کو اس کے سرورق سے جج کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت، لباس اور گفتگو کا انداز آپ کی آدھی کامیابی ہے۔ اگر آپ خود کو اچھے طریقے سے پیش کریں گے (Well-dressed)، تو دکان ہو یا دفتر، آپ کو عزت اور راستہ دونوں ملیں گے۔ اسے دکھاوا نہ سمجھیں، اسے ”پریزنٹیشن“ سمجھیں۔ 2-تعلقات ایک سرمایہ ہیں اسے سفارش کہہ کر مسترد نہ کریں، اسے ”تعلقاتِ عامہ“ (PR) سمجھیں۔ مشکل وقت میں انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ لوگوں سے خلوص سے ملیں اور تعلق بنائیں، کیونکہ پاکستان میں ایک فون کال وہ کام کروا سکتی ہے جو مہینوں کی خواری نہیں کروا سکتی۔ 3-اپنی خوشی کی حفاظت  نظر لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ اپنی کامیابی، اپنی تنخواہ اور اپنے مستقبل کے پلانز کو راز رکھیں۔ خوشی کا شور مچانے کے بجائے اسے خاموشی سے منائیں، کی...

Shina Muller About Iran. Urdu Explainer

 ‏ایران ہزاروں سال پرانی سویلائزیشن ہے اسے قذافی کی طرح اپنے میزائل ڈرونز سرنڈر کرکے لیبیا بننے کا کوئی شوق نہیں ہے ۔ ایران کا اپنا  sovereign internet  ہے ایران یورپ اور امریکہ کے برعکس ستانوے فیصد اپنی ادویات پروڈیوس کرتا ہے ۔ ایران کا لٹریسی ریٹ یونیورسل ہے جبکہ امریکہ کے اٹھائیس فیصد نوجوان پانچویں جماعت تک پڑھتے کیونکہ ایران کی طرح امریکی حکومت تعلیم پر خرچ نہیں کرتی ۔ ایران دنیا میں انجینرز پروڈیوس کرنے میں تیسرے نمبر پر ہے ایران کے پاس تیل گیس کے لامحدود خزانے ہیں ۔ تم لوگ ایران کو سیز فائر کی آڑ میں سرنڈر کی فرمائش بھیج رہے ہو ۔ شرم کرو کچھ !  ایران کا نیوکلیر ڈیٹرنس آبنائے ہرمز ہے اسے کھولنے کی فرمائش تو ایسے بھیج رہے ہو جیسے ہر ایک کو پاکستان سمجھا ہوا جو سترہ سال امریکہ ڈرونز کھاتا رہا اور اس کے دوٹوک کے دانشور عوام کو manipulate کرتے رہے  ۔

دماغ کا اسکین کرنے سے پتا چلا کہ مختصر ویڈیوز یادداشت کو کیسے متاثر کررہی ہیں؟ آج کل لوگ زیادہ

 ‏میری بیٹی نے سائیکولوجی میں ڈگری لی ہے۔ وہ کبھی کبھی اس سے متعلق مضامین مجھ سے شئیر کرتی رہتی ہے۔ کل اس نے ویب سائٹ سائی پوسٹ کا ایک مضمون شئیر کیا جو میرے خیال میں عام لوگوں کی دلچسپی کا بھی ہے۔ Mubashir Zaidi مضمون کا عنوان ہے: دماغ کا اسکین کرنے سے پتا چلا کہ مختصر ویڈیوز یادداشت کو کیسے متاثر کررہی ہیں؟ آج کل لوگ زیادہ تر مختصر ویڈیوز دیکھتے ہیں، جیسے ٹک ٹاک یا انسٹاگرام کی ریلز۔ تحقیق سے پتا چلا کہ جب ہم ایک مکمل اور مسلسل ویڈیو دیکھتے ہیں تو ہمارا دماغ معلومات کو بہتر طریقے سے سمجھتا اور یاد رکھتا ہے۔ لیکن جب ہم چھوٹی چھوٹی اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ویڈیوز دیکھتے ہیں تو ہماری یادداشت کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر چند سیکنڈ بعد موضوع بدل جاتا ہے جس سے دماغ کو معلومات جوڑنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل ویڈیو دیکھنے سے دماغ ایک کہانی کی صورت میں معلومات کو محفوظ کرتا ہے۔ اس کے برعکس مختصر ویڈیوز میں ہر کلپ الگ ہوتا ہے اس لیے دماغ ان کو ایک مکمل تصویر میں تبدیل نہیں کرپاتا۔ اسی لیے لوگ بعد میں اس معلومات کو آسانی سے یاد نہیں رکھ پاتے۔ اس تحقیق میں 57 ...

Middle east war. No way out for All

 The U.S. has reached another big decision point in the Iran war: By Richereeld Fontaine  1. Tuesday evening is the latest deadline for the President’s promised attacks, ones so severe that “it will take them 100 years to rebuild.” Iran promises to retaliate by striking civilian infrastructure across the region. Both sides know that in an all-out energy war, everyone loses. 2. Trump's three broad options are to (1) declare victory and end fighting, (2) escalate, or (3) cut a deal. He clearly wants a deal and has been signaling that every way possible for weeks now. It would be great for Iran to accept the deal the administration put forward, but it won’t. Iran has put forth its own peace proposal with completely unacceptable terms. 3. Weeks ago, the President might have declared victory and come home, going on to spin the outcome as success (we've already won, they surrendered, the regime has changed, etc.). After Iran closed the Strait of Hormuz, however, that's not a real...

Iran own Internet System. Explained in Urdu

 اپنی مٹی، اپنا انٹرنیٹ!  .ایران کے ڈیجیٹل انقلاب کی وہ داستان جو تاریخ بدل رہی ہے روس اور چین کے بعد ایران وہ تیسری قوت ہے جس نے ڈیجیٹل سامراج کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ جب تک ڈیٹا غیر ملکی سرورز پر ہے آزادی ادھوری ہے، اور ایران نے اس زنجیر کو ہمیشہ کے لیے توڑ دیا ہے۔ ایران کا اپنا انٹرنیٹ سسٹم اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اب کسی بھی قسم کی عالمی ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوگا ایران میں وٹس ایپ کے متبادل کے طور سروش ایپ ہے ۔ دوسری متبادل بلہ ایپ ایک میسنجر ہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بینکنگ ٹرانزیکشنز اور پیسے بھیجنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اور روبیکا ایپ میسجنگ سمیت سوشل میڈیا اور فلمیں دیکھنے کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ ٹیلی گرام کے طرز پر مقامی ایپ ایتا کافی مقبول ہے ۔ یو ٹیوب  کے متبادل کے طور پر مقامی اپارات بنایا گیا ہے ۔ نیٹ فلیکس کا متبادل فیلیمو موجود ہے  امریکی ہے پال کا متبادل آسان پرداخت ایپ ہے ۔ یہ ایک ڈیجیٹل والٹ اور پیمنٹ ایپ ہے۔ اس سے بلوں کی ادائیگی، موبائل ٹاپ اپ اور ٹرین و جہاز کے ٹکٹ بک کیے جاتے ہیں۔ امریکہ میں Craigslist اور Facebook Mar...

Ole poster of ANP Candidate in 1970 elections Dir

 1970 ریاست دیر کے پاکستان میں ضم ہونے کے بعد پہلا بڑا سیاسی معرکہ تھا…اس میں ایک ہی خاندان سے تین امیدوارچچا اور دو بھتیجے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ نوابزادہ بخت جہانزیب  (تیمر خان)  نوابزادہ شہاب الدین خان نیشنل عوامی پارٹی نشان جھونپڑی صاحبزادہ صفی  اللہ جماعت اسلامی نشان ہل شاہ ناصر خان مسلم لیگ قیوم  یہ الیکشن جماعت اسلامی جیت گئ تھی  ستتر کے الیکشن میں نوابزادہ خسرو خان اور صاحبزادہ صفی اللہ کا پھر مقابلہ تھا اس دوران جماعت اسلامی کانعرہ تھا  ایوہ دہ د مینې  محبت نښخه ده تورہ دہ د ظلم او نفرت نخښه ده۔ هل پيل و محبت او تلوار ظلم ونفرت کار نشان هے پیپلزپارٹی کانعرہ تھا تورہ د ځوانانو نخښه ، ایوہ د غوایانو نخښه۔  تلوار جوان مردوں اور ہل بیلوں کا نشان ہے  پشتو سےاخذ

Kurd People. Urdu Info about Kurds

  کرد (Kurds) تقریباً 3 سے 4 کروڑ افراد پر مشتمل ایک نسلی گروہ ہیں جو زیادہ تر ترکی، عراق، ایران اور شام میں آباد ہیں۔ یہ ایک ایسی زبان بولتے ہیں جو فارسی (Persian) سے ملتی جلتی ہے، اور ان کی اکثریت سنی مسلمان ہے۔ 1920 کی دہائی میں ہونے والے بین الاقوامی معاہدوں کے نتیجے میں کردوں کی سرزمین کو نئے بننے والے ممالک کے درمیان تقسیم کر دیا گیا، جس کی وجہ سے کردوں کو اپنی الگ ریاست نہیں مل سکی۔ گزشتہ ایک صدی کے دوران کرد گروہوں نے ان چاروں ممالک میں خودمختاری یا آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ترکی: ترکی کی آبادی کا تقریباً 20 فیصد کردوں پر مشتمل ہے۔ ایک کرد مسلح تنظیم PKK (کردستان ورکرز پارٹی) 1984 سے ریاست کے خلاف لڑ رہی ہے، اور اس تنازعے میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عراق: عراق کے شمال میں کردوں نے ایک نیم خودمختار علاقہ قائم کر رکھا ہے جس کی اپنی حکومت ہے، تاہم تیل کی آمدنی اور دیگر مسائل پر عراق کی مرکزی حکومت کے ساتھ کشیدگی رہتی ہے۔ شام: شام کی خانہ جنگی کے دوران 2014 سے کرد جنگجوؤں نے داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ مل کر لڑائی کی اور 2026 تک شما...

Pak Afghan Relations over the years

 پاک افغان تعلقات: پہلی قسط پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات آغاز ہی سے تناؤ اور کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ اس موضوع پر بہت پہلے لکھنے کا ارادہ تھا لیکن ناسازئ طبع کی وجہ سے وقت نہ مل سکا۔ آج اس سلسلے کی پہلی قسط پیشِ خدمت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ ان مسائل کی جڑ کہاں ہے، یہ کب شروع ہوئے اور ان کے پیچھے محرکات کیا تھے۔ 1946ء کے صوبائی انتخابات ہوئے تو صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) میں کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ اسمبلی کی کل 50 نشستوں میں سے کانگریس کے پاس 30 جبکہ مسلم لیگ کے پاس 17 سیٹیں تھیں۔ ڈاکٹر خان صاحب، جو باچا خان کے بڑے بھائی تھے، صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے۔ اسی دوران 3 جون 1947 کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے تحت ہندوستان کی دو ریاستوں میں تقسیم کا فیصلہ ہوا۔ اس منصوبے میں مختلف صوبوں اور شاہی ریاستوں کے لیے الحاق کے الگ الگ طریقے وضع کیے گئے تھے۔ صوبہ سرحد اور سلہٹ کے لیے استصوابِ رائے (ریفرنڈم) کا راستہ اختیار کیا گیا، جہاں عوام کے پاس صرف دو آپشن تھے: پاکستان میں شمولیت یا بھارت میں شمولیت۔ باچا خان اور خدائی خدمتگاروں کا موقف یہ تھا کہ ریفرنڈم کے سوالات بہت محدود ہیں۔ ...

If your father or mother is above 67, please pause and read this slowly.

 If your father or mother is above 67, please pause and read this slowly. At that age, life begins to feel different for them. The world moves faster, but their bodies move slower. The things they once did effortlessly now require effort. Their strength is not what it used to be, and even if they don’t say it, they feel it. What they need now is not pressure. Not stress. Not arguments about money or past mistakes. They need stability. They need reassurance. They need to feel safe. If they have savings, protect it. This is not the stage for risky investments or “let’s try this opportunity.” It is the stage for preservation. Capital safety matters more than high returns. Peace of mind matters more than profit. If they depend on you financially, don’t see it as a burden. See it as a privilege. The same hands that once carried you are now weaker. The same voices that defended you now speak softer. Support them with dignity, not pity. And beyond money, give them something deeper. Call t...

Options With Iran. Urdu Explainer.

 Options With Iran. Urdu Explainer. ‏ایران کے پاس 2500کے لگ بھگ بلاسٹک میزائل موجود ہیں۔ ایران روزانہ مختلف لہروں میں سو کے لگ بھگ میزائل فائر کرتا ہے۔ اس مسلسل گولہ باری کا بنیادی مقصد اسرائیل کے جدید دفاعی نظام 'آئرن ڈوم' اور 'ایرو' (Arrow) کو تھکانا اور ان کے مہنگے انٹرسیپٹرز کو ضائع کروانا ہے۔ دوسری جانب، امریکی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ ایرانی میزائل لانچرز کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ایک کلیدی نکتہ ہے کیونکہ اگر ایران کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ موجود بھی ہو، لیکن انہیں لانچ کرنے والی متحرک گاڑیاں (Launchers)  تباہ ہو جائیں، تو حملوں کی شدت میں خود بخود کمی آ جائے گی۔ ایسی صورت میں جنگ طول تو پکڑ سکتی ہے لیکن اس کی تباہ کن قوت برقرار رکھنا ایران کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران ماہانہ درجنوں  (70 سے 100)  نئے میزائل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ مسلسل اپنی پیداواری صلاحیت کو درجنوں سے سینکڑوں پہ لے جانا چاہتا ہے تاکہ 2027 تک میزائلز کا ذخیرہ 8000تک کر سکے۔  اس  نے میزائل ساز فیکٹریاں زمین دوز کر رکھی ہے۔ لیکن موجودہ جنگی ...

اردو فنی

 ‏ایک دفعہ کلاس میں بچوں سے درخواست لکھنے کو کہا تو ایک  نے بخدمت جناب کو "بدبخت جناب" لکھا۔۔۔  ۔۔۔۔۔  پرچے میں چچا کے نام خط لکھنے کو کہا گیا تو کسی کے چچا شاید وفات پاچکے تھے،خط کے آغاز میں لکھا "السلام علیکم یا اہل القبور"۔  ۔۔۔۔۔ ایک طالب علم نے خط نویسی میں "امید ہے آپ بخیریت ہوں گے"  کو "امید ہے آپ بیغیرت ہوں گے" لکھ ڈالا ۔۔۔۔۔۔ ایک نے "درختوں پر انجیر لٹکے ہوئے تھے، کو "درختوں پر انجینئر لٹکے ہوئے تھے" پڑھا۔ ۔۔۔۔۔۔ ایک نے تو گھر جا کر بتایا کہ مس کہہ رہی تھیں آپ خود کشی پر دھیان دیں حالانکہ میں نے خوش خطی کی بات کی تھی.۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ پچھلے ہفتے ایک شاگرد نے  لکھا: شاعر مشرک فرماتے ہیں  "محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں گند"  ۔۔۔۔ میم کیا ہم لعنت کا استعمال کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں،یہ کیسا سوال ہے؟  میم آپ نے ہی نوٹ میں لکھا تھا کہ جہاں مشکل پیش آئے وہاں لعنت کا استعمال کریں.  میں نے "لغت"  لکھا تھا لعنت نہیں۔۔اف۔۔😀 ‎#teacherandstudents

بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں

 ‏بہت سی بیماریاں دراصل بیماریاں نہیں بلکہ بڑھاپے کی قدرتی علامتیں ہیں۔ بیجنگ کے ایک اسپتال کے ڈائریکٹر نے بزرگوں کے لیے پانچ قیمتی مشورے دیے ہیں: *"آپ بیمار نہیں ہیں، آپ صرف بوڑھے ہو رہے ہیں۔"* بہت سی چیزیں جنہیں آپ بیماری سمجھتے ہیں، دراصل جسم کے بڑھاپے کی علامتیں ہیں۔ 1. یادداشت کی کمزوری یہ الزائمر نہیں بلکہ دماغ کا خود حفاظتی نظام ہے۔ خود کو خوفزدہ نہ کریں۔ یہ دماغ کے بڑھنے کی علامت ہے، بیماری نہیں۔ اگر آپ صرف چابی یا چیزیں کہاں رکھی ہیں بھول جاتے ہیں مگر بعد میں ڈھونڈ لیتے ہیں، تو یہ ڈیمنشیا نہیں۔ 2. چلنے میں سستی یا لڑکھڑاہٹ یہ فالج نہیں بلکہ پٹھوں کی کمزوری (Degeneration) ہے۔ علاج دوائی نہیں بلکہ حرکت ہے۔ جتنا ہو سکے چلیئے، متحرک رہیئے۔ 3. نیند نہ آنا (انسومنیا) یہ بیماری نہیں بلکہ دماغ کا اپنی رفتار بدلنا ہے۔ عمر کے ساتھ نیند کے اوقات بدل جاتے ہیں۔ نیند کی گولیاں بار بار استعمال کرنا خطرناک ہے، اس سے گریزکیجیئے، اس سے یادداشت کمزور ہونے اور دماغی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے۔ بزرگوں کے لیے بہترین نیند کی دوا سورج کی روشنی ہے — دن میں دھوپ لیں اور مقررہ وقت پر سونے جاگنے کی...

15 Golden Rules For Earning Money In Urdu.

 ‏کمانے کے 15 اٹل اصول  کمانا  (Earning)  کوئی فن نہیں، یہ ایک میکانزم ہے۔ دنیا آپ کو اس لیے پیسے نہیں دیتی کہ آپ "اچھے" ہیں یا "ضرورت مند" ہیں۔ دنیا آپ کو پیسے تب دیتی ہے جب آپ اس کے منہ سے نوالہ چھیننے کی صلاحیت رکھتے ہوں یا اس کی کوئی ایسی مشکل حل کریں جس کے لیے وہ تڑپ رہی ہو۔ یہ ہیں کمانے کے  15  بے رحمانہ اور اٹل اصول 1-آپ کو آپ کی محنت کے نہیں، آپ کی "ویلیو" کے پیسے ملتے ہیں۔ یہ سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ "محنت کرو تو پیسہ ملے گا"۔ ایک مزدور 12 گھنٹے پتھر توڑ کر بھی غریب رہتا ہے۔ پیسہ "مشکل کام" کا نہیں، "نایاب کام" کا ملتا ہے۔ اپنی ویلیو (Value)  بڑھائیں، محنت نہیں۔ 2-وقت بیچنا بند کریں، پروڈکٹ بیچیں۔ اگر آپ گھنٹوں کے حساب سے کماتے ہیں (تنخواہ)، تو آپ کی کمائی کی ایک حد (Cap) ہے۔ امیر وہ ہوتا ہے جو سوتے ہوئے بھی کمائے۔ ایسا سسٹم، پروڈکٹ یا اثاثہ بنائیں جو آپ کے وقت کا محتاج نہ ہو۔ 3-گمنامی  (Anonymity)  غربت ہے۔ اگر دنیا نہیں جانتی کہ آپ کون ہیں اور کیا کرتے ہیں، تو آپ کبھی امیر نہیں ہو سکتے۔ "جو دکھتا ہے، وہ بکتا ہے...

دہشت و عفریت کو ہیومنائز کرنے اور ان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی ایک اور کوشش

 طالبانی دہشت و عفریت کو ہیومنائز کرنے اور ان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی ایک اور کوشش جب افغانستان میں دہشتگردی کو بطور حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے افغان طالبان وہاں لڑ رہے تھے، تو اس وقت افغان طالبان کے جنگی ترانوں اور نظموں پر مبنی کتاب ’طالبان کی شاعری (Poetry of the Taliban) شائع ہوئی جس پر کراچی لٹریچر فیسٹیول میں سیشن بھی ہوا جس میں کوئی پشتون، افغان یا افغان امور پر نظر رکھنے والا ماہر شامل نہیں تھا، اس کتاب کو استاد تقی نے بجا طور پر طالبانی دہشت و عفریت کو ہیومنائز کرنے اور ان کا سافٹ امیج پیش کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ اب پاکستان میں ماحول بدل چکا ہے، طالبان افغانستان میں قابض و مسلط ہیں ان کے بارے میں سرکاری لب و لہجہ تبدیل ہوا ہے، ہوا کے بدلتے رخ کے ساتھ تجزیہ کار و صحافی بھی پرانی ہمدردانہ اصطلاحات بھول کر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کیلئے استعمال استعارے کام میں لانے لگے ہیں۔ ایسے میں، بھلا ہو نجم سیٹھی کا، ٹھیٹ کاروباری ہیں، سیاسی ماحول سے منافع کشید کرنے کیلئے مولانا سمیع الحق کے بیانیے کی روٹی لگوانے کیلئے اپنے اشاعتی ادارے کا تندور پیش کردیا ہے اور ایک کتاب چھاپ دی گئ...

Radio Pakistan Peshawar 545 KW. Pekhawar Radio Tarikh Aw Yadoona By Hamayun Huma

 Radio Pakistan Peshawar 545 KW. Pekhawar Radio Tarikh Aw Yadoona By Hamayun Huma  د ډاکټر همایون هما کتاب "پېښور ریډیو: تاريخ او يادونه"  چې په ۲۰۲۵ کال کې خپور شوی، د  Radio Pakistan  او په ځانګړي ډول د Radio Pakistan Peshawar د تاريخ يو ارزښتناک او مستند اثر ګڼل کېږي. دا کتاب نه يوازې د يوې رسنيزې ادارې تاريخ بيانوي، بلکې د پښتني ټولنې د فکري، ادبي او کلتوري بدلونونو يوه ژوره څېړنه هم وړاندې کوي. ډاکټر همایون هما په دې اثر کې د پېښور راډيو د بنسټ ايښودنې له پيله تر معاصر دور پورې ټول مهم پړاوونه په تحقيقي او مدلل انداز کې بيان کړي دي. ليکوال د رسمي اسنادو، شخصي مرکونو، ارشيفي موادو او تاريخي شواهدو په رڼا کې دا تاريخ خوندي کړی دی، څو راتلونکو نسلونو ته يو باوري ماخذ پاتې شي. پېښور راډيو د پښتو ژبې، ادب او موسيقۍ د ودې په برخه کې نه هېريدونکی کردار ادا کړی دی. په دې کتاب کې ښودل شوې چې څنګه دې ادارې د پښتو ډرامې، فيچرونو، ادبي پروګرامونو او موسيقۍ له لارې د ټولنې فکري روزنه کړې ده. پېښور راډيو د پښتو ژبې د پرمختګ لپاره د ګڼو شاعرانو، ليکوالانو او هنرمندانو روز...

شورویانو د وروستي پوځي وتلو پرمهال له ډاکټر نجیب الله څخه د روسیې د سفیر لویه غوښتنه

 د شورویانو د وروستي پوځي وتلو پرمهال له ډاکټر نجیب الله  څخه د روسیې د سفیر لویه غوښتنه د نجیب د دفتر دریس اسحق توخي له خولې «په هغو وروستیو ورځو کي چي د پخواني شوروي اتحاد وروستی پوځي د حیرتانو له پله څخه چي د دوستۍ پله نوم ورباندې ایښودل سوی و تېر سي، په کابل کي د شوروي سفارت یوه ډیپلوماټ زما (لیکوال) له دفتر سره تماس ونیوه او له جمهور رییس نجیب الله سره یې د شوروي سفیر د لیدنې غوښتنه وکړه. له جمهور رییس څخه تر هدایت اخیستلو وروسته مې سفارت ته د لیدنې په اړه خبر ورکړ. لا یو ګړۍ نه وه تېره سوې  چي د شوروي سفیر، په کابل کي د هغه هیواد دوه نظامي چارواکي او یو ژباړن د جمهوري ریاست ودانۍ ته رادننه سول هغه وخت د شوروي سفیر یولي وارنسوف و چي جنرال بوریس ګروموف په افغانستان کي د شوروی اتحاد ۴۰م پوځ مشر، جنرال والنتین وارینیکوف په افغانستان کي د شوروي اتحاد عمومي پوځي مشاور او یوه ژباړن یې ملتیا کوله. ما د ملاقات کوټې ته د دوی لارښوونه وکړه. ما ته راپه زړه دي چي د نوموړي پلاوي له راتلو وروسته د شوروي سفیر دوکتور نجیب الله ته څرګنده کړه چي موږ نن ځکه راغلو چي د دې لپاره د جنرال ...

VOA Farsi Launches Radio Broadcasts in Iran Amid 2026 Protests: How to Access News Without Internet During Crackdown

  VOA Farsi Launches Radio Broadcasts in Iran Amid 2026 Protests:  How to Access News Without Internet During Crackdown Posted by Pashto Times Staff | January 11, 2026 | Categories: Middle East News, Iran Protests, Human Rights, International Politics In the midst of Iran's largest anti-government protests since the 1979 Islamic Revolution, Voice of America (VOA) Farsi has announced a groundbreaking move to deliver uncensored news directly to Iranians via traditional radio waves.  As internet blackouts and censorship grip the nation, this new AM radio broadcast on 1548 kHz offers a lifeline for those seeking reliable information on the ongoing Iran protests 2026, US President Donald Trump's position on Iran, and international reactions to the economic crisis fueling the unrest.  For readers in Iran, Afghanistan, and the global diaspora—including Pashto-speaking communities concerned about regional stability—this development highlights innovative ways to bypass intern...