تاریخ کے پہلے پشتون کمیونسٹ *نثار محمد یوسفزئی* نے سن 1897ء میں خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے ایک چھوٹے سے قصبے زیدہ میں اؤل خان کے گھر میں آنکھ کھولی۔ فطرت نے روز اؤل سے انہیں غیر معمولی ذہانت، بہادری اور آزادی وطن کا جوش عطاء کیا تھا۔ نوجوانی میں ہی روس کے بالشویک انقلاب سے متاثر ہوئے اور سامراجی طاقتوں سے نفرت ان کے دل میں رچ بس گئی۔ اپنے وطن اور خطے کے مظلوم عوام کو سامراجی قوتوں کے پنجوں سے چھڑانا انکا دیرینہ خواب تھا جس کےلئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔ سن 1919ء میں جب تیسری آنگلوں افغان جنگ شروع ہوئی تو نثار محمد یوسفزئی اپنی کم عمری کے باوجود افغانستان کی آزادی کےلئے انگریزوں کے خلاف بہادری سے لڑے۔ ان کی شجاعت اور جانبازی کے سبب افغانستان کے بادشاہ امان اللہ خان نے انہیں ملک کا اعلیٰ ترین عسکری تمغہ عطا کیا۔ مگر جب وہ اپنے وطن صوابی لوٹے تو انہیں محسوس ہوا کہ ان کی اپنی دھرتی اب بھی برطانوی استعمار کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ یہی احساس انہیں ایک اور سفر انقلاب کی طرف لے گیا۔ برطانوی حکومت نے انہیں بغاوت اور کیمونزم کے پھیلاؤ کے الزام میں سزائے موت سنائی مگر ...